لندن : برطانیہ کے دفتر برائے قومی شماریات (ONS) کی تازہ رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ انگلینڈ اور ویلز میں ہر 8 میں سے ایک خاتون گزشتہ سال گھریلو تشدد، جنسی تشدد یا اسٹاکنگ جیسے جرائم کا شکار ہوئی۔
اس سنگین صورتحال کو ماہرین اور حکومتی حلقے قومی بحران قرار دے رہے ہیں۔مارچ 2025 تک کے سال پر مشتمل کرائم سروے کے مطابق، تقریباً 5.2 ملین افراد — یعنی 10.6 فیصد بالغ آبادی — نے بتایا کہ وہ پچھلے 12 ماہ کے دوران ان جرائم میں سے کسی ایک کا نشانہ بنے۔
خواتین زیادہ متاثر، مگر مرد بھی محفوظ نہیں
اعداد و شمار کے مطابق:
خواتین میں متاثرہ افراد کی شرح 12.8 فیصد رہی۔
مردوں میں یہ شرح 8.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
یہ اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اگرچہ خواتین نسبتاً زیادہ متاثر ہو رہی ہیں، لیکن مرد بھی ان جرائم سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔
برطانوی وزیر داخلہ کا ردعمل
وزیر داخلہ یویٹ کوپر نے اس صورتحال کو "قومی ہنگامی مسئلہ" قرار دیتے ہوئے کہا:"یہی وجہ ہے کہ ہم نے 999 ایمرجنسی کال سینٹرز میں گھریلو تشدد کے ماہرین تعینات کرنے کا آغاز کیا ہے۔ ہم مجرموں کے لیے اصلاحی پروگرامز پر بھی بڑی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔"انہوں نے اعلان کیا کہ ستمبر میں حکومت خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد پر جامع حکمت عملی جاری کرے گی۔ یویٹ کوپر نے مزید کہا:"ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سڑکوں پر خود کو محفوظ محسوس کرے۔"
پچھلے سال کے مقابلے میں معمولی بہتری
2023-24 کے سروے کے مطابق:متاثرہ افراد کی تعداد 5.4 ملین (11.3 فیصد) تھی۔موجودہ سروے کے مطابق یہ تعداد 5.2 ملین (10.6 فیصد) رہی۔تاہم ONS نے خبردار کیا ہے کہ ان دونوں سالوں کا براہِ راست موازنہ نہ کیا جائے کیونکہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ متاثرہ افراد کی تعداد میں معمولی کمی خوش آئند ہے، مگر یہ مسئلہ اب بھی بنیادی انسانی حقوق کا سوال ہے، اور ریاست کو فعال اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔