معاہدے پر عمل کیا جائے: یوسف گیلانی، پیپلزپارٹی کو تحفظات نہیں، اہم امور پر ساتھ لیکر چلے ہیں ، وزیر اعظم ،

یوسف گیلانی کابینہ کا حصہ بننے سے پھر انکار
وفاقی کابینہ کا حصہ تھے نہ آئندہ ہونگے ،، تمام سیاسی مسائل کا حل مذاکرات ،پیپلز پارٹی کو تحفظات کوئی حتمی بات ہوگی تو سب کوآگاہ کیا جائے گا :چیئرمین سینیٹ،مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس جلد بلایا جائیگا : وزیر اعظم کی گفتگو 
پہلا انٹرو
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ کا پہلے بھی حصہ نہیں تھی، آئندہ بھی نہیں ہوگی۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو تحفظات تھے جس پر مذاکرات جاری ہیں، جب کوئی حتمی بات ہوگی تو سب کوآگاہ کیا جائے گا۔یوسف گیلانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی سے حکومت کا جو تحریری معاہدہ ہوا اس پر عمل کیا جائے، تمام سیاسی مسائل کا حل مذاکرات ہیں۔انہوں نے کہا کہ مہذب دنیا میں مذاکرات سے ہی مسائل کا حل نکالا جاتا ہے، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جب بلایا جائے گا تو نوٹیفکیشن جاری ہو جائے گا۔
یوسف گیلانی

 دوسرا انٹرو
لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف مذاکرات کیلئے سنجیدہ ہوتو اس پر جواب دوں ،پیپلزپارٹی کو تحفظات نہیں، اہم امور پر ساتھ لیکر چلے ہیں ، مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس جلد بلایا جائیگا۔وزیراعظم نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کی خبریں میڈیا کی حد تک سن رہا ہوں ، جب کوئی باضابطہ رجوع ہوگا تو حکومت اس پر موقف دے گی، میں نے تو بطور اپوزیشن لیڈر بھی ملکی معیشت جیسے اہم ایشو پر صلح کا ہاتھ بڑھایا تھا مگر ہاتھ جھٹک دیا اور پھر میں نے بطور وزیراعظم پارلیمنٹ کے فلور پر باضابطہ مذاکرات کی پیش کش کی تھی تو ان کا ردعمل قابل افسوس تھا لیکن میں نے اپنا فرض پورا کیا، یہ تو کبھی ڈائیلاگ کے خواہاں نہیں رہے اور یہ تو سمجھتے تھے کہ حکومت اور ریاست پر چڑھ دوڑنے سے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرلیں گے لیکن اسے معلوم نہیں کہ حکومت اور ریاست کمزور نہیں ہوتیں۔شہباز شریف نے کہا کہ سیاست میں سیاسی طرز عمل اختیار کیا جاتا ہے ، حکومت کا فیصلہ ہے کہ قانون پر اثرانداز ہونے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا ہم نے یہاں سرمایہ کاری یقینی بنانا اور معیشت کی مضبوطی کو یقینی بنانا ہے اور اس مقصد کیلئے حکومت اور ادارے ملکر اپنے طے شدہ پروگرام پر سرگرم عمل ہیں اور کسی کو اس ماحول پر اثرانداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔ملکی معیشت پر سیاست کی گنجائش نہیں اور آج کا ہمارا بڑا مسئلہ ملک کو ترقی و خوشحالی کی منزل پر لے جانا ہے اور ہم اس مقصد کیلئے سرگرم عمل ہیں اور ملک آگے کی طرف جا رہا ہے یہ کسی کو ہضم نہیں ہو پا رہا اور دیکھنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہماری اتحادی جماعت ہے میں نہیں سمجھتا کہ اس کے اہم معاملات پر تحفظات ہیں ہم اسے ساتھ لیکر چلے ہیں اور جلد مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس بھی بلایا جائے گا۔ اتحادی حکومت کے تقاضے ہیں جنہیں ہم پورا کرنیکیلئے کوشاں ہیں۔شہبازشریف کا کہناتھاکہ ہماری حکومت نے مشکل حالات سے ملک کو نکالا ہے اور ہم پرعزم ہیں کہ ملک کو معاشی خود انحصاری کی منزل پر لے جانا ہے اس کیلئے ہرممکن کوشش کررہے ہیں، حکومت اس حوالہ سے یکسو اور سنجیدہ ہے کہ پہلی ترجیح پاکستان ہے اور پھر ہمارے اپنی جماعت کے مفادات ہیں ،ہماری سیاست پاکستان کے ساتھ مشروط ہے، ملک مضبوط ہوگا تو سب مضبوط ہوں گے، ماضی میں اپنے مفادات کیلئے ملکی مفادات سے کھیلنے کی روش اختیار کی گئی ریاستی اداروں کی املاک پر حملے کئے گئے،ہم اس پر خاموشی اختیار کرلیں ایسا نہیں ہوگا، آج جو مذاکرات پر اصرار کر رہے ہیں بتائیں کہ اب ان پریہ بخار کیوں سوار ہے ایک طرف سول نافرمانی کی رٹ تو دوسری طرف مذاکرات، کیا یہ بڑاتضاد نہیں ، لہٰذا جب مذاکرات پر سنجیدگی اختیار کریں گے تو پھر ہم جواب دیں گے۔