امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف فوجی حملوں کے لیے کانگریس کی پیشگی اجازت دینے کی قرارداد کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
ووٹنگ کے دوران 52 سینیٹرز نے اس کی مخالفت کی، جبکہ 47 سینیٹرز نے حمایت میں ووٹ دیا۔ اس طرح یہ قرار داد منظور نہیں ہو سکی۔ یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایران کے خلاف جاری آپریشن ایپک فیوری کے تسلسل کے لیے کانگریس سے منظوری لینا ضروری تھا۔امریکی قانون، خاص طور پر وار پاورز ایکٹ 1973 کے تحت، صدر کو فوجی کارروائی شروع کرنے کے 60 دن کے اندر کانگریس سے منظوری لینا لازم ہے، ورنہ کارروائی روکنی پڑتی ہے۔ دریں اثنا، سینیٹ میں اسرائیل سے متعلق بھی ایک اہم ووٹنگ ہوئی۔ برنی سینڈرز کی قیادت میں پیش کردہ بلز کو بھی مسترد کیا گیا۔ان بلز کا مقصد اسرائیل کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد، خصوصاً بلڈوزرز اور بھاری بموں کی سپلائی کو روکنا تھا۔
بلڈوزرز کی فراہمی روکنے کے حق میں 40 سینیٹرز نے ووٹ دیا، جبکہ 59 نے مخالفت کی۔ اسی طرح، ایک ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کی فراہمی روکنے کی تجویز بھی حمایت حاصل نہ کر سکی، جس کے حق میں 36 سینیٹرز تھے۔ ان اقدامات کو امریکہ کی اسرائیل کے لیے غیر مشروط حمایت کو چیلنج کرنے کی کوشش سمجھا جا رہا تھا، مگر سینیٹ کی اکثریت نے ان تجاویز کو مسترد کر کے موجودہ پالیسی کو برقرار رکھا۔