15 ستمبر یومِ الحاقِ جوناگڑھ

 قاضی مصطفی
برصغیر کی تقسیم صرف دو نئی ریاستوں کے قیام کا نام نہیں تھی، بلکہ اس کے ساتھ سینکڑوں ریاستوں کے مستقبل، لاکھوں انسانوں کی قسمت، سیاسی فیصلوں، معاہدات اور الحاق کی دستاویزات سے جڑے کئی ایسے معاملات بھی وجود میں آئے جن کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ انہی تاریخی معاملات میں ریاستِ جوناگڑھ ایک منفرد اور اہم حیثیت رکھتی ہے۔
ہر سال 15 ستمبر ہمیں اس تاریخی دن کی یاد دلاتا ہے جب ریاستِ جوناگڑھ کے قانونی و خودمختار حکمران نواب سر مہابت خانجی سوم نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔ الحاق کا Instrument of Accession جاری کیا گیا اور پاکستان کے گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح نے اسے قبول کیا۔ یہی تحریری دستاویز جوناگڑھ کے تاریخی مقدمے کی بنیادی دستاویزی بنیاد ہے۔
اس لیے جوناگڑھ کے عوام کے لیے 15 ستمبر محض ایک یادگاری تاریخ نہیں بلکہ ایک تاریخی فیصلے، ایک قانونی دستاویز اور ایک ایسے مقدمے کی علامت ہے جسے وقت گزرنے کے باوجود تاریخی شعور اور تحقیق کے دائرے میں زندہ رکھا جانا ضروری ہے۔
جوناگڑھ: ایک باقاعدہ ریاست
1947 میں برطانوی اقتدار کے خاتمے کے وقت برصغیر میں متعدد ریاستیں موجود تھیں۔ برطانوی اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ریاستوں کے مستقبل کا سوال پیدا ہوا۔ ریاستِ جوناگڑھ بھی انہی ریاستوں میں شامل تھی اور اس کے حکمران نواب مہابت خانجی سوم تھے۔
جوناگڑھ کا اپنا انتظامی نظام، عدالتیں، پولیس، فوج، خزانہ اور حکومتی ڈھانچہ موجود تھا۔ چنانچہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ اس وقت کے سیاسی و آئینی حالات کے تناظر میں ایک اہم معاملہ تھا۔
اسی تاریخی پس منظر میں نواب مہابت خانجی سوم نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کو محض ایک فرد کے اچانک اقدام کے طور پر دیکھنا بھی مکمل تاریخی تصویر پیش نہیں کرتا، کیونکہ دستیاب تاریخی مواد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی سطح پر مشاورت کا عمل بھی موجود تھا۔
15 ستمبر 1947: الحاق کا تاریخی دن
جوناگڑھ کے مقدمے کی سب سے اہم بنیاد ایک باقاعدہ تحریری دستاویز، یعنی Instrument of Accession ہے۔
الحاق کی دستاویز کے مطابق نواب مہابت خانجی نے پاکستان سے الحاق کا Instrument جاری کیا، جبکہ پاکستان کے گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح نے اسے قبول کیا۔ یوں جوناگڑھ اور پاکستان کے درمیان الحاق کا قانونی عمل دستاویزی شکل اختیار کر گیا۔
یہی بنیادی نکتہ جوناگڑھ کے تاریخی مقدمے کو منفرد بناتا ہے:
ایک ریاست، ایک قانونی حکمران، ایک تحریری الحاقی دستاویز اور پاکستان کی جانب سے اس کی قبولیت۔
یہ دستاویز آج بھی تاریخی ریکارڈ کا حصہ ہے اور جوناگڑھ کے مسئلے پر کسی بھی سنجیدہ تحقیق کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
جغرافیہ کا سوال اور جوناگڑھ کا مؤقف
جوناگڑھ کے معاملے میں ایک اہم اعتراض اس کا جغرافیائی محلِ وقوع رہا ہے۔ جوناگڑھ کی پاکستان کے ساتھ براہِ راست زمینی سرحد نہیں تھی، تاہم ریاست کا بحیرہ? عرب سے تعلق موجود تھا اور 1947 کے پیچیدہ سیاسی و قانونی ماحول میں ریاستوں کے مستقبل کے تعین کے مختلف پہلو زیرِ بحث تھے۔
اسی لیے جوناگڑھ کا مقدمہ صرف جغرافیے کا سوال نہیں بلکہ اس دور کے قانونی، سیاسی اور آئینی اصولوں کی تشریح کا سوال بھی ہے۔
جوناگڑھ کے مؤقف کے مطابق اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ ریاست کے قانونی حکمران نے کیا فیصلہ کیا، وہ فیصلہ کس دستاویز کے ذریعے کیا گیا اور اس دستاویز کو پاکستان نے کس طرح قبول کیا۔
الحاق کے بعد کے واقعات
جوناگڑھ کے پاکستان سے الحاق کے بعد بھارت میں شدید سیاسی ردِعمل پیدا ہوا۔ بھارت نے اس الحاق کو تسلیم نہیں کیا اور ریاست کے گرد سیاسی، اقتصادی اور انتظامی دباؤ بڑھتا گیا۔
بالآخر نومبر 1947 میں بھارتی افواج نے جوناگڑھ میں داخل ہو کر انتظامی کنٹرول سنبھال لیا۔ تاریخی حوالوں میں 9 نومبر 1947 کو بھارتی افواج کے جوناگڑھ میں داخل ہونے کا ذکر ملتا ہے۔
یوں جوناگڑھ کی تاریخ میں دو اہم تاریخیں ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہیں:
15 ستمبر 1947 — الحاق
9 نومبر 1947 — بھارتی فوجی قبضہ اور انتظامی کنٹرول
یہی واقعات آج جوناگڑھ کے تاریخی مقدمے کے بنیادی ابواب میں شمار ہوتے ہیں۔
جوناگڑھ کا مسئلہ ختم نہیں ہوا
وقت گزرنے کے ساتھ بعض حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ جوناگڑھ کا مسئلہ تاریخ کے صفحات میں دفن ہوچکا ہے۔ لیکن کسی تاریخی واقعے کی اہمیت محض وقت گزرنے سے ختم نہیں ہوتی۔
جوناگڑھ کا سوال اس لیے زندہ ہے کہ اس کے مرکز میں ایک ریاستی فیصلہ، ایک تحریری الحاقی دستاویز اور پاکستان کی جانب سے قبولیت موجود ہے۔ اسی لیے اس مسئلے کو صرف ماضی کا واقعہ سمجھنے کے بجائے تاریخی ریکارڈ، تحقیق اور قومی یادداشت کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
یہ مقدمہ جذباتی نعروں سے زیادہ علم، تحقیق، دستاویز اور دلیل کا تقاضا کرتا ہے۔
2012 سے جوناگڑھ اسٹیٹ مسلم فیڈریشن کی جدوجہد
اسی تاریخی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے جوناگڑھ اسٹیٹ مسلم فیڈریشن نے 2012 سے جوناگڑھ کے تاریخی مقدمے کو مسلسل اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔
فیڈریشن نے جوناگڑھ کے مسئلے کو صرف سالانہ تقریب یا رسمی تقریر تک محدود رکھنے کے بجائے تاریخی آگاہی، دستاویزی مواد، سیمینارز، اخباری و ابلاغی سرگرمیوں، کتابوں، خصوصی پروگراموں اور عوامی رابطوں کے ذریعے نئی نسل اور قومی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔
فیڈریشن کا بنیادی تصور واضح ہے:
جس قوم کو اپنی تاریخ یاد نہیں رہتی، وہ اپنے مستقبل کے فیصلوں میں بھی کمزور ہوجاتی ہے۔
جوناگڑھ اسٹیٹ مسلم فیڈریشن ایک غیر سیاسی، غیر فرقہ وارانہ اور فلاحی پلیٹ فارم کی حیثیت سے اپنی تنظیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم جوناگڑھ کی تاریخ، شناخت اور تاریخی ورثے کا تحفظ اس کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
صرف احتجاج نہیں، تاریخ کو محفوظ کرنا بھی جدوجہد ہے
آج جوناگڑھ کی نئی نسل کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں پیدا ہوا ہے۔ اس کے لیے جوناگڑھ شاید صرف نقشے پر ایک نام ہو، لیکن ہمارے بزرگوں کے لیے جوناگڑھ ایک ریاست، شناخت، تہذیب اور تاریخی تعلق تھا۔
اس لیے ہماری ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ ہر سال 15 ستمبر کو ایک تقریب منعقد کی جائے۔ اصل ذمہ داری یہ ہے کہ جوناگڑھ کی تاریخ کتابوں میں محفوظ، نوجوانوں کے ذہنوں میں زندہ اور قومی بیانیے میں موجود رہے۔
جوناگڑھ کے سابق صدرِ فیڈریشن ایڈووکیٹ اسماعیل پڈھیار کی کتاب Indian Held Pak-Territory Junagadh — The Paradise Lost بھی اسی تاریخی جدوجہد کی ایک اہم مثال ہے، جس میں ریاست کی تاریخ، الحاق اور 1947 کے بعد کے واقعات کو موضوع بنایا گیا ہے۔
جوناگڑھ لائبریری اینڈ ریسرچ سینٹر: جدوجہد کا نیا مرحلہ
2012 سے جاری اس جدوجہد کو اب ایک مستقل علمی و تحقیقی شکل دینے کا عملی آغاز بھی ہوچکا ہے۔
فیڈریشن کے مرکزی دفتر سے منسلک گلشنِ اقبال میں واقع پلاٹ پر جوناگڑھ لائبریری اینڈ ریسرچ سینٹر زیرِ تعمیر ہے، جس کا تقریباً 90 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ اسی احاطے میں مستقبل میں جوناگڑھ فیڈریشن سیکریٹریٹ بھی قائم کیا جارہا ہے، جبکہ ایک خصوصی کمرہ "جوناگڑھ گیلری ہال" کے لیے مختص کیا جارہا ہے۔
یہ گیلری محض نمائشی ہال نہیں ہوگی بلکہ جوناگڑھ کی تاریخی و تہذیبی شناخت کا محفوظ مرکز ہوگی۔ یہاں جوناگڑھ سے متعلق نایاب کتب، تاریخی دستاویزات، اخباری تراشے، تصاویر، شخصیات کے ریکارڈ، یادگار اشیاء￿  اور دیگر مستند تاریخی مواد کو محفوظ اور مرتب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ مرکز تحقیق، مطالعے اور علمی مکالمے کے لیے بھی ایک پلیٹ فارم بنے گا تاکہ آنے والی نسل جوناگڑھ کی تاریخ کو صرف سنے نہیں بلکہ اصل دستاویزات اور تاریخی شواہد کے ذریعے اسے سمجھ سکے۔
یوں فیڈریشن کی جدوجہد زبانی تاریخ سے تحریری تاریخ، تحریری تاریخ سے محفوظ دستاویزات، اور محفوظ دستاویزات سے نئی نسل کی تاریخی آگاہی تک پہنچ رہی ہے۔
دستاویز، تحقیق اور تسلسل
ہم سمجھتے ہیں کہ تاریخ کو زندہ رکھنے کے لیے تین چیزیں بنیادی ہیں:
دستاویز — تحقیق — تسلسل
دستاویز ہمیں حقیقت کا ریکارڈ دیتی ہے۔
تحقیق ہمیں اس حقیقت کو سمجھنے کا شعور دیتی ہے۔
اور تسلسل اس حقیقت کو آنے والی نسل تک منتقل کرتا ہے۔
اسی لیے پاکستانی اخبارات، ٹیلی وڑن، ڈیجیٹل میڈیا، تحقیقی اداروں اور تعلیمی حلقوں کو چاہیے کہ ہر سال 15 ستمبر کو جوناگڑھ کی تاریخ، الحاق کی دستاویز اور 1947 کے واقعات پر سنجیدہ علمی بحث اور تحقیقی مواد کو جگہ دیں۔
نئی نسل کے نام
آج ہمیں اپنے بچوں کو یہ بتانا ہوگا کہ جوناگڑھ کیا تھا، نواب مہابت خانجی سوم کون تھے، Instrument of Accession کیا ہے، قائداعظم نے اسے کب قبول کیا، نومبر 1947 میں کیا ہوا اور جوناگڑھ کا تاریخی مقدمہ کن دستاویزی بنیادوں پر قائم ہے۔
ہمیں تاریخ کو نفرت کا ذریعہ نہیں بلکہ شعور، تحقیق اور قومی شناخت کا وسیلہ بنانا ہوگا۔
جوناگڑھ کا مقدمہ کسی فرد، خاندان یا تنظیم کی ملکیت نہیں؛ یہ تاریخ کا ایک باب ہے اور تاریخی ابواب آنے والی نسلوں کی امانت ہوتے ہیں۔
ایک تاریخ، ایک دستاویز، ایک عہد
15 ستمبر ہمارے لیے صرف یومِ الحاق نہیں بلکہ تاریخ کو محفوظ رکھنے کے عہد کی تجدید کا دن ہے۔
ہم اپنی تاریخ کو فراموش نہیں ہونے دیں گے۔
ہم اصل دستاویزات اور تاریخی شواہد محفوظ کریں گے۔
ہم تحقیق اور مکالمے کو فروغ دیں گے۔
ہم قومی اور بین الاقوامی سطح پر جوناگڑھ کے تاریخی مقدمے کو پرامن، علمی اور قانونی انداز میں اجاگر کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔
اور سب سے بڑھ کر:
ہم تاریخ کو نفرت نہیں، شعور بنائیں گے۔
ماضی کو تنازع نہیں، تحقیق بنائیں گے۔
اور جوناگڑھ کو فراموش نہیں ہونے دیں گے۔
جوناگڑھ زندہ رہے گا، جب تک تاریخ زندہ ہے۔
15 ستمبر — یومِ الحاقِ جوناگڑھ
ایک تاریخ، ایک دستاویز، ایک عہد