سردار حیدر احمد علی
ستمبر کا مہینہ آتے ہی پاکستان کی سیاست میں ایک عجیب سی بے چینی محسوس ہونے لگتی ہے۔ موسم کروٹ لیتا ہے، گرمی کی شدت کم ہونے لگتی ہے، شامیں کچھ طویل محسوس ہوتی ہیں، لیکن سیاسی درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے۔ اس مرتبہ بھی دارالحکومت کی طرف نظریں اٹھ رہی ہیں۔ سیاسی کارکن متحرک ہیں، قیادتیں مشاورت میں مصروف ہیں اور لانگ مارچ کی بازگشت ایک بار پھر سیاسی گفتگو کا حصہ بن چکی ہے۔
پاکستان میں لانگ مارچ کوئی نئی سیاسی اصطلاح نہیں۔ ہماری سیاسی تاریخ میں سڑک نے ہمیشہ ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ جب پارلیمان میں آواز کمزور محسوس ہوئی، سیاست دانوں نے سڑک کا راستہ اختیار کیا۔ جب مذاکرات ناکام ہوئے، کارکنوں کو متحرک کیا گیا۔ جب حکومت پر دباؤ بڑھانا مقصود ہوا تو جلسے، جلوس اور دھرنے سیاسی ہتھیار بن گئے۔مگر ہر لانگ مارچ کامیاب نہیں ہوتا اور ہر بڑا مجمع سیاسی کامیابی میں تبدیل نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ہزاروں لوگ سڑکوں پر ہوتے ہیں لیکن چند دن بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ کبھی ایک چھوٹا سا احتجاج پورے سیاسی منظرنامے کو بدل دیتا ہے۔ سوال اس لیے صرف تعداد کا نہیں، سمت کا ہے۔ستمبر کے اس ممکنہ سیاسی معرکے میں بھی اصل سوال یہی ہے کہ سڑک کہاں لے جائے گی؟
اقتدار کے ایوانوں تک یا مذاکرات کی میز تک؟
حکومت کے لیے یہ ایک مشکل مرحلہ ہے۔ احتجاج کو روکنا بظاہر آسان کام لگتا ہے۔ راستے بند کیے جا سکتے ہیں، کنٹینر کھڑے کیے جا سکتے ہیں، سیکیورٹی بڑھائی جا سکتی ہے اور انتظامی طاقت استعمال کی جا سکتی ہے۔ مگر سیاسی بے چینی کو کنٹینروں سے ہمیشہ کے لیے نہیں روکا جا سکتا۔ راستہ بند کرنے سے قافلہ رک سکتا ہے، سوال نہیں۔دوسری طرف احتجاج کرنے والوں کے لیے بھی حالات اتنے آسان نہیں۔ کارکنوں کو سڑک پر لانا ایک مرحلہ ہے، انہیں مسلسل متحرک رکھنا دوسرا۔ جذباتی تقریر کے بعد چند گھنٹوں کے لیے جوش پیدا کیا جا سکتا ہے، مگر طویل سیاسی تحریک کے لیے تنظیم، واضح مقصد اور قابلِ عمل حکمت عملی درکار ہوتی ہے۔
یہاں سے اصل سیاست شروع ہوتی ہے۔
پاکستانی عوام اب پہلے جیسے نہیں رہے۔ وہ سیاسی نعروں کو سنتے ضرور ہیں، لیکن ساتھ اپنے گھر کا بجٹ بھی دیکھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ایک حکومت جائے گی تو دوسری آئے گی، ایک جماعت اقتدار میں ہوگی تو دوسری اپوزیشن میں۔ مگر ان کے مسائل اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔بجلی کا بل کسی جماعت کا نہیں ہوتا، ہر گھر کا ہوتا ہے۔مہنگائی کسی ایک سیاسی کارکن کو متاثر نہیں کرتی، ہر خاندان کو متاثر کرتی ہے۔روزگار کی کمی کسی ایک ووٹر کا مسئلہ نہیں، پوری نوجوان نسل کا سوال ہے۔کاروباری مشکلات کسی ایک شہر تک محدود نہیں رہیں۔اس لیے آج کا عام پاکستانی ایک مختلف سوال پوچھ رہا ہے۔وہ یہ نہیں پوچھتا کہ کون سا لیڈر زیادہ بلند آواز میں بول رہا ہے۔ وہ یہ پوچھتا ہے کہ میرے لیے کون کچھ کرے گا؟یہ سوال شاید کسی بھی لانگ مارچ سے بڑا ہے۔سیاسی جماعتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام کو صرف احتجاج کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کو ایک مقصد چاہیے، ایک سمت چاہیے اور سب سے بڑھ کر یہ یقین چاہیے کہ ان کی قربانی کا نتیجہ صرف حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ نظام کی بہتری ہوگا۔ہماری سیاست کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ اقتدار میں موجود جماعت احتجاج کو سازش سمجھتی ہے اور اقتدار سے باہر جماعت اسی احتجاج کو جمہوریت کی آواز قرار دیتی ہے۔ حکومت بدلتے ہی الفاظ بدل جاتے ہیں، دلائل بدل جاتے ہیں، موقف بدل جاتا ہے۔کل جو دھرنا ملک دشمنی تھا، آج وہ جمہوری حق بن جاتا ہے۔کل جو سڑکوں پر آنا انتشار تھا، آج وہ عوامی مزاحمت بن جاتا ہے۔یہ تضاد ہماری سیاست کی کمزوری ہے۔جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ حکومت کے خلاف احتجاج بھی ہو سکتا ہے اور حکومت اپنی مدت بھی پوری کر سکتی ہے۔ اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں ہونا چاہیے۔ سیاسی مخالف کو غدار قرار دے دینا سب سے آسان راستہ ہے، مگر سیاسی اختلاف کو برداشت کرنا ہی اصل جمہوری امتحان ہے۔ستمبر کا لانگ مارچ اگر ہوتا ہے تو حکومت کے پاس ایک موقع ہوگا کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو صرف انتظامی مسئلہ نہ سمجھے بلکہ سیاسی فریق سمجھے۔
اور اپوزیشن کے پاس بھی موقع ہوگا کہ وہ اپنے مطالبات کو صرف جذباتی نعروں تک محدود نہ رکھے بلکہ واضح سیاسی ایجنڈا سامنے لائے۔
آخر حکومت سے ہٹ کر حکومت چلانے کا منصوبہ بھی تو ہونا چاہیے۔
عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگر موجودہ حکومت ناکام ہے تو متبادل کیا ہے؟ معیشت کیسے بہتر ہوگی؟ مہنگائی کیسے کم ہوگی؟ بجلی کے شعبے میں کیا اصلاحات ہوں گی؟ نوجوانوں کے لیے روزگار کہاں سے آئے گا؟ سرمایہ کاری کیسے بڑھے گی؟ اداروں کے درمیان تعلقات کیسے بہتر ہوں گے؟
اگر ان سوالات کے جواب موجود نہیں تو پھر لانگ مارچ صرف غصے کا اظہار رہ جائے گا۔
اور غصہ سیاست کو حرکت تو دے سکتا ہے، منزل نہیں دے سکتا۔
پاکستان کی تاریخ میں ایسے کئی مواقع آئے جب سیاسی قوتیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی تھیں۔ اگر اس وقت مکالمے کا راستہ اختیار کیا جاتا تو شاید کئی بحران پیدا ہی نہ ہوتے۔ سیاست میں مذاکرات شکست نہیں ہوتے۔ بعض اوقات مذاکرات ہی سب سے بڑی سیاسی کامیابی ہوتے ہیں۔
مگر ہمارے ہاں مذاکرات کو کمزوری سمجھنے کا رجحان بھی موجود ہے۔
قیادتیں سوچتی ہیں کہ اگر مخالف سے بات کر لی تو کارکن کیا کہیں گے؟ اگر سمجھوتہ کر لیا تو سیاسی تاثر کیا بنے گا؟ اگر پیچھے ہٹ گئے تو مخالف جماعت اسے اپنی فتح قرار دے گی۔
یہی انا کئی بار قومی بحران کو طول دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سیاست میں کوئی بھی فریق ہمیشہ نہیں جیتتا اور کوئی ہمیشہ نہیں ہارتا۔ آج کا حکمران کل اپوزیشن میں ہو سکتا ہے اور آج کا احتجاج کرنے والا کل اقتدار میں بیٹھا ہو سکتا ہے۔
اس لیے سیاسی جماعتوں کو اپنے آج کے فیصلوں میں اپنا کل بھی دیکھنا چاہیے۔
ستمبر کا لانگ مارچ اسی لیے صرف ایک احتجاج نہیں، سیاسی رویوں کا امتحان بھی ہو سکتا ہے۔
اگر حکومت تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے، اگر اپوزیشن ذمہ داری کا ثبوت دیتی ہے، اگر ریاستی ادارے آئینی حدود میں رہتے ہیں اور اگر سیاسی قوتیں مذاکرات کے دروازے کھلے رکھتی ہیں تو شاید ایک بڑا بحران پیدا ہونے سے پہلے ہی ٹل جائے۔
لیکن اگر ہر فریق یہ سمجھنے لگے کہ صرف وہی حق پر ہے اور باقی سب غلط ہیں، تو پھر سڑک پر آنے والا ہجوم صرف سیاسی نہیں رہتا، قومی تقسیم کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
پاکستان کو آج ایک اور تصادم سے زیادہ اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔
ہمیں ایسے سیاست دان چاہییں جو انتخابات جیتنے کے ساتھ ریاست کو بھی سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ہمیں ایسی اپوزیشن چاہیے جو حکومت کی غلطیوں کی نشاندہی کرے لیکن ساتھ متبادل راستہ بھی دکھائے۔ ہمیں ایسی حکومت چاہیے جو اختلاف برداشت کرے اور تنقید کو دشمنی نہ سمجھے۔
اور سب سے بڑھ کر ہمیں ایسی سیاست چاہیے جس میں عوام صرف جلسوں کی تعداد نہ ہوں بلکہ فیصلوں کا مرکز ہوں۔
ستمبر کا لانگ مارچ کامیاب ہوگا یا ناکام، اس کا فیصلہ آنے والے دن کریں گے۔ ممکن ہے قافلہ بہت بڑا ہو، ممکن ہے راستے میں رک جائے، ممکن ہے مذاکرات کی میز پر معاملہ طے ہو جائے۔ سیاست میں کچھ بھی یقینی نہیں ہوتا۔
لیکن ایک بات یقینی ہے۔
لانگ مارچ ختم ہو جائے گا۔
کنٹینر ہٹ جائیں گے۔
سڑکیں کھل جائیں گی۔
جلسوں کے میدان خالی ہو جائیں گے۔
اخبارات میں نئی سرخیاں آ جائیں گی۔
مگر پاکستان کے عوام اپنے گھروں میں واپس جا کر پھر وہی سوال کریں گے:
بجلی کا بل کیسے کم ہوگا؟
روزگار کہاں سے آئے گا؟
مہنگائی کب کم ہوگی؟
اور ہماری سیاست کب اقتدار کی جنگ سے نکل کر عوام کی خدمت بنے گی؟
شاید ستمبر کے لانگ مارچ کی اصل کامیابی یہی ہوگی کہ سیاسی قیادت اس سوال کو سن لے۔
کیونکہ تاریخ میں بڑے مارچ بہت ہوئے، بڑے جلسے بہت ہوئے، بڑی تقریریں بھی بہت ہوئیں۔
اب وقت بڑے نتائج کا ہے۔
پاکستان کو ایک اور فاتح سیاست دان نہیں، ایک کامیاب سیاسی راستہ چاہیے۔
اور اس راستے کی منزل اسلام آباد نہیں۔
اس راستے کی اصل منزل پاکستان