رفیع صحرائی
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک خبر نے پاکستانیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان خطے کے چار غریب ترین ممالک میں شامل ہو گیا ہے اور اس فہرست میں شام، یمن اور جبوتی بھی شامل ہیں۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ درست انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔ ورلڈ بینک کی آمدنی کے اعتبار سے درجہ بندی میں پاکستان ’’کم آمدنی والا ملک‘‘ نہیں بلکہ ’’کم متوسط آمدنی‘‘ رکھنے والی معیشت ہے۔ تاہم اس خبر کی تردید سے ہمیں مطمئن ہو کر بیٹھ جانے کا حق بھی نہیں مل جاتا۔ اصل تشویش اس بات کی ہے کہ پاکستان میں غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم تحفظ عام آدمی کی زندگی کو مسلسل مشکل بنا رہے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اعدادوشمار سے آگے بڑھ کر اصل سوال پوچھنا چاہیے کہ پاکستان غریب ترین ملک نہیں تو پھر پاکستانی اتنے غریب کیوں ہیں؟
یہ سوال کسی ایک حکومت، ایک سیاسی جماعت یا ایک ادارے سے نہیں بلکہ پورے نظام سے ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس کے پاس وسیع رقبہ، قدرتی وسائل، معدنی ذخائر، سمندری ساحل، نوجوان افرادی قوت اور دنیا کی بڑی آبادیوں میں شمار ہونے والی آبادی موجود ہے۔ اس کے باوجود ہم ہر چند سال بعد معاشی بحران کے دہانے پر کیوں کھڑے نظر آتے ہیں؟ کیوں ہمیں زرمبادلہ کے ذخائر سنبھالنے کے لیے دوست ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے؟ کیوں بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کے سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے؟ ہمیں اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہوگا۔
پاکستان کی معاشی بیماری کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے پیداوار بڑھانے کے بجائے قرض بڑھانے کو آسان راستہ سمجھ لیا ہے۔ جب اخراجات آمدن سے بڑھ گئے تو قرض لیا گیا، قرض کی ادائیگی کے لیے مزید قرض لیا گیا اور پھر اس پورے عمل کو معاشی کامیابی کا نام دینے کی کوشش کی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ریاستی مالیات کا دباؤ بالآخر عوام کی جیب پر منتقل ہونے لگا۔
بجلی مہنگی ہوئی، گیس مہنگی ہوئی، پٹرول مہنگا ہوا، ٹیکس بڑھے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں نے عام آدمی کی کمر توڑ دی۔ حکومتیں اپنی جگہ معاشی استحکام کے اعدادوشمار پیش کرتی رہیں، مگر ایک عام گھرانے کا بجٹ ان اعدادوشمار سے نہیں بلکہ آٹے، دال، سبزی، بجلی کے بل، بچوں کی فیس، ادویات اور پٹرول کی قیمت سے بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگائی میں کمی کے سرکاری دعوے اور عوام کے معاشی تجربے میں ہمیں واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔
غربت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کسی شخص کی آمدنی ایک خاص حد سے کم ہے۔ غربت اس وقت بھی ہوتی ہے جب ایک سفید پوش باپ اپنے بچوں کی اچھی تعلیم کا خواب پورا نہ کر سکے، یہ بھی غربت ہے جب ایک ماں دوا خریدنے اور گھر کا راشن ڈالنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو، جب ایک نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار کی تلاش میں در در کی خاک چھانتا پھرے اور جب ایک کسان اپنی فصل اگانے کے بعد بھی قرض میں ڈوب جائے تو اسے بھی غربت کہیں گے۔
ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہمارے ہاں متوسط طبقہ سکڑ کیوں رہا ہے؟ کیونکہ یہی طبقہ کسی بھی مستحکم معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر متوسط طبقہ مسلسل معاشی دباؤ کا شکار رہے تو معاشرہ چند امیر طبقات اور ایک بہت بڑی کم آمدنی والی یعنی غریب آبادی میں تقسیم ہونے لگتا ہے۔ یہ صورت حال نہ معاشی طور پر پائیدار ہے اور نہ سماجی طور پر محفوظ کہی جا سکتی ہے۔
پاکستان کو غربت سے نکالنے کے لیے سب سے پہلے اپنی معاشی ترجیحات تبدیل کرنا ہوں گی۔ ٹیکس دہندگان پر شکنجہ کس کر محض ٹیکس بڑھانا کافی نہیں۔ ٹیکس چوری روکنا ہوگی، ٹیکس نیٹ وسیع کرنا ہوگا، غیر پیداواری اخراجات کم کرنا ہوں گے اور سرکاری وسائل کا شفاف استعمال یقینی بنانا ہوگا۔ افسران کی سرکاری گاڑیوں کو بچوں کو سکول چھوڑنے، سبزی لانے اور بیگمات کو شاپنگ کے لیے لے جانے سے احتراز کرنا ہو گا۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں صنعت کے پہیے کو تیز کرنا ہوگا۔ ایسی توانائی پالیسی بنانا ہوگی جس سے صنعت کو سستی اور قابلِ اعتماد بجلی مل سکے۔ چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو آسان قرض، کم سرکاری رکاوٹیں اور کاروباری تحفظ دینا ہوگا۔ یہ بھی مدِنظر رکھنا ہو گا کہ برآمدات میں اضافہ کیے بغیر ہم مستقل بنیادوں پر ڈالر نہیں کما سکتے، اور ڈالر نہ ہوں تو درآمدی معیشت بار بار بحران کا شکار ہوتی رہے گی۔
زراعت کے میدان میں بھی بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔کسان کو صرف فصل اگانے کے لیے نہیں بلکہ منافع کمانے کے لیے سازگار ماحول چاہیے۔ معیاری بیج، مناسب قیمت پر کھاد، پانی کی دستیابی، جدید زرعی ٹیکنالوجی، ذخیرہ گاہیں، کولڈ چین اور منڈی تک براہِ راست رسائی فراہم کیے بغیر زرعی انقلاب کا خواب محض نعرہ رہے گا۔
سب سے بڑھ کر ہمیں تعلیم اور ہنر کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے معدنی ذخائر یا جغرافیائی محل وقوع سے بھی زیادہ اس کے نوجوان ہیں۔ اگر نوجوان کو تعلیم، ہنر اور روزگار مل جائے تو یہی آبادی معاشی بوجھ کے بجائے معاشی قوت بن سکتی ہے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ریاستی وسائل کا بڑا حصہ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔ ایک طرف عام آدمی بجلی کے بل، پٹرول اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں سے پریشان ہو اور دوسری طرف حکمران طبقے اور اشرافیہ کے غیر ضروری اخراجات اور مراعات پر سوال اٹھتے رہیں تو عوام کے اندر احساسِ محرومی پیدا ہونا فطری ہے۔ معاشی اصلاحات کا آغاز صرف عوام سے قربانی مانگنے سے نہیں بلکہ اشرافیہ کو بھی قربانی کا عملی نمونہ پیش کرنے سے ہونا چاہیے۔
سیاسی استحکام بھی معاشی استحکام کی بنیادی شرط ہے۔حکومتیں بدلیں، سیاسی جماعتیں اختلاف کریں، پارلیمنٹ میں بحث ہو، مگر معاشی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔ سرمایہ کار کو یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ آج کی حکومت جو پالیسی بنائے گی، کل آنے والی حکومت اسے محض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر ختم نہیں کرے گی۔
یہ وقت ایک دوسرے کو غریب قرار دینے کا نہیں بلکہ غربت ختم کرنے کا ہے۔ ہمیں یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان دنیا کے غریب ترین ممالک میں شامل ہے یا نہیں۔ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ پاکستان اپنے عوام کو غریب نہیں رہنے دے گا۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف قدرتی وسائل سے ترقی نہیں کرتیں، وہ درست پالیسیوں، دیانت دار قیادت، مضبوط اداروں، تعلیم یافتہ نوجوانوں، پیداواری معیشت اور قانون کی حکمرانی سے ترقی کرتی ہیں۔
پاکستان کے پاس صلاحیت کی کمی نہیں، مسئلہ ترجیحات اور تسلسل کا ہے۔ آج سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ورلڈ بینک نے پاکستان کو غریب ترین ملک کہا ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک ایسا پاکستان بنانے کے لیے تیار ہیں جہاں کسی باپ کو بچوں کی فیس، کسی ماں کو دوا، کسی کسان کو فصل اور کسی نوجوان کو روزگار کے لیے بے بسی کا سامنا نہ کرنا پڑے؟
اگر اس سوال کا جواب ’’ہاں‘‘ ہے تو پھر ہمیں قرضوں کی قسطوں پر جشن منانے کے بجائے آنے والے دنوں میں پیداوار، برآمدات، تعلیم، صحت، زراعت اور روزگار میں اضافے کا جشن منانا ہوگا۔ ورنہ خطرہ یہ نہیں کہ پاکستان ’’غریب ترین ممالک‘‘ کی کسی فہرست میں شامل ہو جائے گا؛ اصل خطرہ یہ ہے کہ پاکستان کا عام شہری رفتہ رفتہ خوشحال زندگی کے خواب سے ہی محروم ہو جائے گا۔