اداکارہ ہانیہ عامر نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر اپنے حوالے سے پھیلنے والی جعلی خبروں اور جھوٹے دعوؤں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مداحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی خبر پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں۔
پس منظر:
گزشتہ دنوں پاک بھارت کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا پر ایک جعلی پوسٹ وائرل ہوئی، جس میں ہانیہ عامر کے نام سے بھارتی وزیراعظم سے کشمیر میں مبینہ حملوں پر اپیل کی گئی تھی۔ اس پوسٹ کے وائرل ہونے کے بعد اداکارہ نے فوری ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ پوسٹ مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی ہے اور انہوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔
جعلی اکاؤنٹس کا انکشاف:
اسی حوالے سے ہانیہ عامر نے انسٹاگرام پر وضاحت جاری کی کہ ان کا صرف ایک ہی آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ ہے، اور اس کے علاوہ جتنے بھی اکاؤنٹس ان سے منسوب کیے جا رہے ہیں، وہ سب جعلی اور بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک افواہ یہ بھی پھیلائی گئی کہ وہ بھارتی مداحوں کے لیے علیحدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ چلا رہی ہیں، جس کی انہوں نے پرزور تردید کرتے ہوئے مداحوں سے کہا کہ ایسے جعلی اکاؤنٹس کو رپورٹ کریں۔
ایک اور جھوٹا دعویٰ:
حال ہی میں ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر نے اپنی ویڈیو کی تشہیر کے لیے ہانیہ عامر کا نام استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اداکارہ نے ان سے "کیمرہ زومنگ" کے بارے میں سوال کیا۔ ہانیہ نے اس ویڈیو کو اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے اس بات کی بھی تردید کی اور کہا کہ یہ دعویٰ مکمل طور پر بے بنیاد ہے اور ان کا اس ویڈیو یا انفلوئنسر سے کوئی تعلق نہیں۔
مداحوں سے اپیل:
ہانیہ عامر نے اپنے پیغام میں مداحوں سے کہا:"سوشل میڈیا پر میرے نام سے منسوب جھوٹی باتیں اور پوسٹس پھیلائی جا رہی ہیں۔ ان افواہوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ برائے مہربانی کسی بھی خبر پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں۔"
عوامی ردعمل:
سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے ہانیہ عامر کی حمایت کی ہے اور فیک نیوز کے خلاف ان کے موقف کو سراہا ہے۔ کئی صارفین نے کہا کہ سوشل میڈیا پر "فیکٹ چیکنگ" وقت کی اہم ضرورت ہے اور کسی کی شہرت کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
نتیجہ:
یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی معلومات کتنی تیزی سے پھیلتی ہیں اور معروف شخصیات کو ان سے کس طرح نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہانیہ عامر کی بروقت وضاحت اور مداحوں کی حمایت ایک مثبت پیغام ہے کہ سچائی اور شعور کو فروغ دینا ضروری ہے۔