ویب ڈیسک: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں، خصوصاً ایپل، کو اپنے مصنوعات امریکہ میں ہی تیار کرنی چاہییں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی فونز اور دیگر الیکٹرانک مصنوعات کی پیداوار امریکہ کے اندر ہو تاکہ ملک میں روزگار بڑھے اور معیشت مستحکم ہو۔ایپل نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ اگلے چار سالوں میں 500 ارب ڈالر امریکہ میں انویسٹ کرے گا، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے:"ایپل اپنے آئی فونز چین یا ایشیا میں کیوں بناتا ہے؟ اور کیا یہ کام واقعی امریکہ میں ممکن ہے؟"
سستی مزدوری نہیں، مہارت اصل وجہ ہے: ٹِم کُک
ایپل کے سی ای او ٹِم کُک نے ایک ویڈیو میں ان تمام مفروضات کو رد کیا کہ کمپنی صرف سستی مزدوری کے لیے چین جاتی ہے۔ اُن کے مطابق:"چین میں مزدوری اب سستی نہیں رہی، لیکن وہاں ایک ایسی مہارت اور صلاحیت موجود ہے جو دنیا کے کسی اور حصے میں اس سطح پر دستیاب نہیں۔"انہوں نے بتایا کہ ٹولنگ انجینئرز — وہ ماہرین جو پیچیدہ مشینیں بناتے اور چلاتے ہیں — امریکہ میں بہت کم تعداد میں موجود ہیں، جبکہ چین میں ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔اگر امریکہ میں ایسے انجینئرز کی میٹنگ بلائی جائے تو شاید ایک چھوٹا سا کمرہ بھرے، جبکہ چین میں فٹبال کے میدان بھر سکتے ہیں۔
مینوفیکچرنگ صرف فیکٹریاں نہیں، ایک پورا ماحولیاتی نظام ہوتا ہے
ٹِم کُک کے مطابق صرف فیکٹریاں بنانا کافی نہیں، بلکہ:
ماہر کاریگر
جدید مشینری
سپلائرز کا جال
لوگوں کی تربیت یہ سب مل کر ایک کامیاب مینوفیکچرنگ ہب بناتے ہیں — جو چین میں موجود ہے اور اب انڈیا میں بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔
انڈیا میں نئی شروعات: چین کا متبادل؟
ایپل اب صرف چین پر انحصار نہیں کر رہا۔ 2024 کے دوران ایپل نے انڈیا میں 22 ارب ڈالر کے آئی فونز تیار کیے ہیں۔
کمپنی انڈیا کو چین کے بعد دوسرا بڑا مینوفیکچرنگ مرکز بنانے میں مصروف ہے تاکہ:
جغرافیائی تنوع قائم رہے
سیاسی اور تجارتی خطرات کم ہوں
لاگت اور لوجسٹکس بہتر ہو سکیں
امریکہ میں مینوفیکچرنگ کیوں مشکل ہے؟
اگرچہ امریکہ ٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ ملک ہے، لیکن وہاں:
اتنی بڑی تعداد میں ماہر افراد موجود نہیں
مینوفیکچرنگ انفرااسٹرکچر نسبتاً کمزور ہے
سپلائی چین عالمی سطح پر پھیلی ہوئی ہے، جسے ایک ملک تک محدود کرنا انتہائی مشکل اور مہنگا عمل ہے
نتیجہ: ٹرمپ کا مطالبہ درست، لیکن آسان نہیں
ٹرمپ کا مطالبہ کہ آئی فون امریکہ میں بنیں، سیاسی طور پر مقبول ہو سکتا ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برخلاف ہیں۔ ایپل جیسی کمپنی کو اپنے معیار، رفتار اور مقدار پر سمجھوتہ کیے بغیر مینوفیکچرنگ کے لیے ایک ایسا ماحول چاہیے جو فی الحال چین اور انڈیا جیسے ملک ہی فراہم کر سکتے ہیں۔