فتنہ الہندوستان اور افغانستان

ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر 
پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں ہونے والے دہشت گرد حملے ایک سنگین خطرے کی گھنٹی ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر ہمارے بہادر فوجی جوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ کبھی کسی چوکی پر حملہ، کبھی کسی قافلے پر خودکش دھماکہ دشمن کا ہدف واضح ہے پاکستان کی مسلح افواج اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنا۔لیکن دشمن بھول گیا ہے کہ یہ وہ قوم ہے جو لا الٰہ الا اللہ کے پرچم تلے پروان چڑھی ہے، جس کا ہر سپاہی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے کھڑا ہے۔اب دہشت گردی کی یہ لہر صرف سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ دارالحکومت تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والا حالیہ خودکش دھماکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد عناصر اب ملک کے دل تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ صرف ایک دھماکہ نہیں، بلکہ دشمنوں کی منظم سازش کا حصہ اور واضح پیغام ہے۔تحقیقات اور شواہد سے یہ بات بارہا سامنے آ چکی ہے کہ ان حملوں کے پیچھے وہی ہاتھ ہیں جو پاکستان کے امن و استحکام کو برداشت نہیں کر سکتے افغان سرزمین سے آنے والے دہشت گرد اور ان کے پیچھے بھارت کی کھلی سپورٹ۔یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کی بنیاد پر نرمی اور خیرسگالی کا مظاہرہ کیا۔ مگر افسوس کہ کابل کی موجودہ پالیسیوں نے ان تعلقات میں شگاف ڈال دیا ہے۔وہ طالبان حکومت جو پاکستان کے تعاون سے افغانستان میں برسراقتدار آئی آج اسی طالبا ن حکومت کی چھتری تلے افغان سرزمین پر ایسے گروہ موجود ہیں جو پاکستان کے اندر کارروائیاں کرتے ہیں اور ان کی پشت پناہی بھارت کر رہا ہے۔ یہ صورت حال انتہائی تشویشناک ہے۔ اسلام، ایمان، اور ہمسائیگی کا تقاضا ہے کہ افغانستان ان عناصر کے خلاف کارروائی کرے، نہ کہ خاموش تماشائی بنے۔
ماضی میں بھی بھارت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے۔ اس کے بعد جب طالبان برسراقتدار آئے تو امید تھی کہ حالات بہتر ہوں گے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ طالبان کا جھکائو بھارت کی طرف بڑھتا جارہا ہے۔ جبکہ بھارت کبھی بھی افغانستان کا خیرخواہ نہیں رہا۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ دہلی کی پالیسی ہمیشہ "مسلمانوں کو کمزورکرو" کے اصول پر چلتی ہے۔ بھارت نہ صرف پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرتا ہے بلکہ افغانستان کے اندر بھی انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔کابل کے حکمرانوں کو سمجھنا چاہیے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات صرف وقتی فائدے کے لیے ہیں۔ وہ تمہارے ملک میں سرمایہ کاری کے بہانے قدم جمانا چاہتا ہے تاکہ بعد میں تمہیں بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لے۔بھارت کا اصل مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان نفرت اور بداعتمادی کی دیوار کھڑی کرنا ہے تاکہ اسلام کے قلعے کمزور ہوں۔یہی بھارت کی پرانی چال ہے پہلے دو مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرو، پھر انہی اختلافات سے فائدہ اٹھاؤ۔
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھو تو افغانستان کو جب بھی مشکل وقت نے گھیر لیا، پاکستان نے سب سے پہلے اس کا ساتھ دیا۔جب روسی 
افواج نے افغانستان پر حملہ کیا، تو پاکستان ہی تھا جس نے اپنے دروازے لاکھوں افغان مہاجرین کے لیے کھول دیے۔ ہمارے شہروں، ہمارے گھروں اور ہمارے اسکولوں میں افغان بھائیوں کو پناہ دی گئی۔ہم نے اپنی معیشت، اپنے وسائل، حتیٰ کہ اپنی جانیں بھی قربان کیں تاکہ افغانستان آزاد اور محفوظ رہے۔یہ پاکستان ہی تھا جس نے دنیا کے سامنے افغان جہاد کی آواز بلند کی اور وہی پاکستان تھا جس نے روسی جارحیت کے مقابلے میں اسلامی بھائیوں کے شانہ بشانہ لڑنے والے مجاہدین کی مدد کی۔کیا وہ سب قربانیاں، وہ بھائی چارہ، وہ مہمان نوازی افغان حکومت بھول گئی ہے؟
دوسری طرف بھارت ہے جہاں مسلمانوں کیلئے رب کانام لینا اور عبادات بجالانا بھی مشکل ہوچکا ہے۔خاص کر مودی کے دور حکومت میں کھلم کھلا مسلمانوں کو کہا جارہا ہے کہ وہ بھارت چھوڑ دیں یا ہندو مت قبول کر لیں۔ یہ اس لیے کہ مودی صرف پاکستان کا دشمن نہیں، بلکہ اسلام، قرآن، اور ربِ رحمان کے پیغام کا بھی دشمن ہے۔اس کی قیادت ہندو انتہا پسندی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ وہاں جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے، وہ دنیا کے سامنے ہے۔ مساجد گرا دی جاتی ہیں، قرآن جلایا جاتا ہے، مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔یہ وہ ملک ہے جو کشمیر کے مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ چکا ہے۔کیا ایسے ملک پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ کیا ایسا دشمن افغانستان کا دوست بن سکتا ہے؟
کابل کے حکمرانوں کو سوچنا ہوگا کہ بھارت کی دوستی دراصل زہرِ قاتل ہے، جو وقت آنے پر ان کی اپنی آزادی کو نگل لے گی۔
آج پاکستان کی بہادر افواج ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف صف آرا ہیں۔ہمارے جوان وادیوں، پہاڑوں اور سرحدوں پر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے کھڑے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ وطن کا دفاع ایمان کا تقاضا ہے۔یہ وہی فوج ہے جس نے 2014 میں آپریشن ضربِ عضب اور بعد ازاں ردالفساد کے ذریعے دہشت گردی کے مراکز کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔مگر افسوس کہ کچھ بیرونی قوتیں، خاص طور پر بھارت، پھر سے افغانستان کے راستے سے دہشت گردی کو پاکستان میں داخل کروا رہی ہیں۔یہ پاکستان پر حملہ نہیں بلکہ اسلام کے قلعے پر حملہ ہے، اور اس قلعے کے سپاہی اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر میدانِ عمل میں ہیں۔
جہاں تک افغانستان کے عوام کا تعلق ہے ہم سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستان کے عوام سے محبت کرتے ہیں، اور پاکستان کے لوگ بھی افغان بھائیوں کو اپنا سمجھتے ہیں۔یہ رشتہ صرف سرحدوں کا نہیں، ایمان اور تاریخ کا ہے۔اسی لیے اب وقت آگیا ہے کہ افغان قیادت بھارت کے فریب سے نکل کر پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنائے۔بھارت کے ساتھ تعلقات وقتی مفاد دے سکتے ہیں، مگر پاکستان کے ساتھ تعلقات دائمی امن اور بھائی چارہ لے کر آئیں گے۔افغانستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس صف میں کھڑا ہے  اسلام اور بھائی چارے کی صف میں، یا بھارت کی دشمنی اور شرارت کی صف میں؟پاکستان اور افغانستان کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ دشمن چاہتا ہے کہ دونوں برادر ملک ایک دوسرے سے دور ہو جائیں تاکہ اسلام کی طاقت کمزور پڑ جائے۔لیکن ہمیں دشمن کی چالوں کو سمجھنا ہوگا۔ پاکستان اپنے افغان بھائیوں سے محبت کرتا ہے، مگر وہ اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔اب افغانستان کی باری ہے کہ وہ ثابت کرے کہ وہ واقعی ایک برادر اسلامی ملک ہے اور بھارت کے ہاتھوں میں کھیلنے والا نہیں۔پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن اگر کوئی اس کے امن کو للکارے گا اور اس کی سلامتی کے درپے آزار ہوگا تو اس کو دندان شکن جواب دیا جائے گا۔ وطن کے دفاع کی خاطر پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ملک کے دفاع کیلئے جانیں قربان کرنے والے قوم کے محسن ہیں۔ ہماری آنے والی نسلیں بھی شہدا اور غازیوں کی احسان مند ہیں۔پاکستان کے سپاہی، اس قوم کے بیٹے، اللہ کے نام پر قربانیاں دے رہے ہیں اور ان کی یہ قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔پاکستان زندہ باد  اسلام پائندہ بادان شاء￿  اللہ !