صوبیہ عباس
پاکستان نے کابل میں واقع ایک اسلحہ بارود کے ٹھکانے پر حملہ کیا مگر پراپیگنڈا کیا جا رہا ھے کہ پاکستان نے حملہ کسی اسپتال پر کیا ھے یہ حملہ اسپتال پر نہیں بلکہ یہ ایک اسلحہ بارود سٹوریج تھا جس پر دھماکے ہونے سے بہت دیر تک آگ بھڑکتی رہی کیونکہ یہ بارود تھا جس کے شعلے آسمان سے باتیں کرتے رہے جس کو اسپتال کہا جا رہا ھے وہ نشے کے عادی افراد کا بحالی مرکز تھا جو اس اسلحے بارود والی عمارت سے کچھ فاصلے پر ھے اس بحالی مرکز میں تقریبا بیس سے پچیس افراد تھے۔ لہذا چار سو افراد کی ہلاکت کی بات محض پراپیگنڈا ھے جسے پاکستان کے اندر کے دشمن ہوا دے رہے ہیں۔
پاکستان وہ ملک ہے جس کے اسی ہزار لوگ دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں پاکستان کے بچے ،عورتیں ,مرد جوان ،بوڑھے ،سکول مساجد امام بارگاہیں۔ مزارات۔ پولیس ٹریننگ سکول اور آرمی کی بیسز شامل ہیں۔ اس طرح کے حملے انٹلیجنس بیسڈ ہوتے ہیں اس میں یہ نہیں ہوتا کہ جہاں دل چاہا بم مار دیا۔پی ٹی آئی کی طرف سے کولیٹرل ڈیمج کی بات کی جاتی ھے تو آپ دیکھیں کہ نو مئی کو بھارت نے پاکستان پر جو حملہ کیا تھا اس میں کتنے معصوم لوگ اور خصوصا بچے مارے گیے تھے اور پاکستان نے بھارت میں کسی سویلین کو ٹارگٹ نہیں کیا بلکہ صرف انڈیا کی دفاعیاور آرمی انسٹالیشنز کو تباہ کیا۔پاکستان پر زبیح اللہ مجاہد کی طرف سے پہلے بھی الزام لگایا گیا تھا کہ سکول پر محلہ کر کے ہمارے بچے مار دیے جبکہ یہ حملہ رات تین بجے کیا گیا تھا اس وقت کونسا سکول مدرسہ ہوتا ھے۔افغانستان میں بچے اور خواتین ہیومن شیلڈ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ان کے سکول اور مدرسے ہوتے ایک نارمل زندگی کا نظام ہوتا تو بات بھی تھی یہ تو قابض لوگ ہیں۔پاکستان کی موجودہ رجیم پر افغان دشمنی کا الزام لگایا جاتا ھے جبکہ پاکستان اور افغانستان کے حالات شروع سے کشیدہ رہے ہیں۔ افغان دعا دیں پاکستان کو جس نے ان کو سویت قبضے کے بعد پناہ دی کاروبار کرا? اور ان کی نسلیں تعلیم یافتہ کر دیں۔پاک افغان تعلقات شروع سے بد اعتمادی سرد مہری اور پختونستان کے معاملے پر کشیدگی کا شکار رہے۔ افغان حکومت کا جھکاؤ ہمیشہ بھارت کی جانب رہا بلکہ ایک زمانے میں پاکستانیوں کو کابل کے کسی ہوٹل میں کمرہ نہیں ملتا تھا دریا پار ایک آدھ کسی ہوٹل میں پاکستانیوں کو رہنے کی اجازت تھی اور بھولے بھٹکے پاکستانی خاد کی بھینٹ چڑھ جاتے تھے۔60 کی دہائی میں افغانستان سے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں چھیڑ چھاڑ ان کا معمول تھی۔کء بار تنازعات اتنے بڑھے کہ سفارتی تعلقات بھی معطل ہو? اسکی ایک بنیادی وجہ پشتونستان کے قیام پر افغان سپورٹ تھی۔1973 میں سردار داؤد خان کی حکومت نے پشتونستان کو لے کر سخت موقف اپنایا افغان سویت تعلقات نے پاکستان کو بارڈر پار سے غیر مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔1978 میں البتہ صورت حال بدل گئی افغانستان میں انقلاب اور کمیونسٹ حکومت کا قیام ہوا 1979 میں سویت قبضے نے صورت حال کو مکمل بدل دیا۔انسانی ہمدردی کے تحت افغان مہاجرین کو پاکستان میں پناہ دی گء مدتوں اپنے وسائل خرچ کیے۔اور پاکستان کو بدلے میں کیا ملا اس کا فیصلہ آپ کریں تاریخ پڑھیں اور اسکے تناظر میں تجزیہ کریں کسی پاکستان دشمن یا کلٹ فالور کی سنی سنائی پر یقین
مت کریں اور نہ ہی اپنے ملک کے بارے میں بدگمانی کریں اور نہ پھیلائیں۔