ویب ڈیسک:پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سپریم کورٹ کے جوڈیشل کمیشن سے احتجاجاً علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ کمیشن کا حصہ ہوتے تو آئینی بینچ کی تشکیل میں عدم مساوات پر بات کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے آئینی تشکیل کے وقت برابری کا وعدہ کیا تھا، لیکن عملی طور پر اس سے پیچھے ہٹ گئی۔ بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ میں دیہی سندھ کے ججز ہوتے تو برابری کی بات ہوتی، اور انصاف کے ادارے میں مساوی نمائندگی ہونی چاہیے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی بینچ سندھ کے ساتھ امتیازی رویہ اختیار کر رہی ہے اور یہ تقسیم سندھ کے ساتھ بار بار دیکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس اور آئینی بینچ کے سربراہ کو غیر متنازعہ ہونا چاہیے اور کچھ ججز بینچ کے ذریعے سیاست کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے سندھ کے وزیراعلیٰ کو ہدایت دی کہ وہ چیف جسٹس سے رجوع کریں تاکہ لوئر کورٹس میں اصلاحات کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی پر بھی بات کی اور کہا کہ پی ایس ڈی پی پر مشاورت سے اتفاق ہوا تھا، لیکن پیٹھ پیچھے حکومت نے کینالز کی منظوری دے دی جس سے وہ متفق نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کو برقرار رکھنا ممکن ہے اور وفاقی حکومت کو اپنے شراکت داروں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر عمل کرنا چاہیے۔آصف علی زرداری کی صحت سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کے والد کے پیر میں چار فریکچر ہیں اور ان کی مکمل صحتیابی میں وقت لگے گا۔
چینی شہریوں کی ہلاکت پر چینی سفیر کے بیان سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے دہشت گردی کی مذمت کی اور کہا کہ چین کے شہری پاکستان کے دوست اور مہمان ہیں۔ انہوں نے بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر کو حکومت کے لیے چیلنج قرار دیا اور کہا کہ عوام حکومت سے عملی اقدامات کی توقع رکھتے ہیں۔امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی امریکی سیاست میں کسی پارٹی کی طرفداری نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ وہ امریکی سیاستدانوں کے ذاتی طور پر جانتے ہیں لیکن خارجہ پالیسی میں جیوپالیٹکس کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مثالی نہیں ہیں۔وی پی این اور انٹرنیٹ کی سست رفتار پر بھی بلاول بھٹو نے حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ اس بارے میں پیپلز پارٹی سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کا دور ہے، اور اس شعبے کو نظر انداز کرنا معیشت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔