بابا گرونانک دیو کا 555 واں جنم دن

تحریر : پروفیسر حکیم سید عمران فیاض

گرمکھی  پنجابی کی پیدائش شہر ننکانہ صاحب لاہور پنجاب موجودہ پاکستان میں 15 اپریل 1469ء کو ہوئی اور وفات 22 ستمبر 1539ء کو شہر کرتار پور میں ہوئی۔ گرونانک سکھ مت کے بانی اور دس سکھ گروؤں میں سے پہلے گرو تھے۔ ان کا یوم پیدائش گرو نانک گرپورب کے طور پر دنیا بھر میں ماہ کاتک(اکتوبر–نومبر) میں پورے چاند کے دن یعنی کارتک پورن ماشی کو منایا جاتا ہے‘بابا گرونانک صاحب کو ’’زمانے کا عظیم ترین مذہبی موجد‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ انھوں نے دور دراز سفر کرکے لوگوں کو اس ایک خدا کا پیغام پہنچایا جو اپنی ہر ایک تخلیق میں جلوہ گر ہے اور لازوال حقیقت ہے۔انھوں نے ایک منفرد روحانی، سماجی اور سیاسی نظام ترتیب دیا جس کی بنیاد مساوات ، بھائی چارے ، نیکی اور حسن سیرت پر ہے۔سکھ مت کا بنیادی عقیدہ انتقام اور کینہ پروری کی بجائے رحم دلی اور امن کا پیغام پھیلانا ہے۔ سکھ مت حالیہ ترین قائم شدہ مذاہب میں سے ایک ہے۔ سکھ گرنتھ صاحب کی تعلیمات کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ مقدس کتاب سکھ مت کے دس میں سے چھ گروؤں کے علاوہ بعض دیگر بزرگوں اور عقیدت مندوں کی تعلیمات پر مشتمل ہیں۔ گرنتھ صاحب کو سکھ مت میں سب سے زیادہ بالادستی حاصل ہے اور اسے سکھ مت کا گیارھواں اور آخری گرو تصور کیا جاتا ہے۔ سکھ مت کے پہلے گرو کی حیثیت سے، گرو نانک کے اس کتاب میں کل 974 بھجن شامل ہیں۔بابا گرونانک کا کلام سکھوں کی مقدس کتاب ، گرنتھ صاحب میں 974 منظوم بھجنوں کی صورت میں موجود ہے ، جس کی چند اہم ترین مناجات میں جپجی صاحب ، اسا دی وار اور سدھ گھوسٹ شامل ہیں۔ سکھ مذہب کے عقائد کے مطابق جب بعد میں آنے والے نو گروؤں کو یہ منصب عطا ہوا تو گرو نانک کے تقدس ، الوہیت اور مذہبی اختیارات کی روح ان میں سے ہر ایک میں حلول کرگئی۔بابا گرونانک صاحب  کم عمری ہی سے اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ تھے۔ پانچ برس کی عمر میں نانک کو مقدس پیغامات پر مشتمل آوازیں سنائی دینے لگیں۔ سات برس کی عمر میں ان کے والد نے انھیں اس وقت کے رواج کے مطابق گاؤں کے مدرسے میں داخل کروایا۔ روایات کے مطابق ، کم عمر نانک نے حروف تہجی کے پہلے حرف میں، جو حساب میں عدد 1 سے مشابہت رکھتا ہے ، جس سے خدا کی وحدانیت یا یکتائی ظاہر ہوتی ہے ، مضمر رموز بیان کرکے اپنے استاد کو حیران کر دیا۔ ان کے بچپن کی دیگر روایات بھی نانک سے متعلق حیرت انگیز اور معجزانہ واقعات بیان کرتی ہیں ، مثلاً رائے بولر سے منقول ایک روایت کے مطابق کم سن نانک جب سوئے ہوئے تھے تو انھیں تیز دھوپ سے بچانے کے لیے ایک درخت یا دوسری روایت کے مطابق ، ایک زہریلا ناگ ان پر سایہ کیے رہا۔
24 ستمبر 1487ء کو نانک نے مل چند اور چندو رانی کی دختر ، ماتاسلکھنی  سے بٹالا میں شادی کرلی۔ اس شادی شدہ جوڑے کے ہاں دو بیٹے ہوئے، سری چند (8 ستمبر 1494ء – 13 جنوری 1629ء ) اور لکھمی چند (12 فروری 1497ء  – 9 اپریل 1555ء)۔ شری چند کو گرو نانک کی تعلیمات سے روشنی ملی اور آگے چل کر انھوں نے اداسی فرقے کی بنیاد رکھی۔
بابا گرو نانک سنہ 1539ء  کو کرتار پور میں فوت ہوئے تو روایت کہ مطابق مقامی سکھ ، ہندو اور مسلمان ان کی آخری رسومات کے حوالے سے آپس میں لڑنے لگ گئے۔ دونوں اپنی اپنی مذہبی روایت کے مطابق ان کی آخری رسومات کرنا چاہتے تھے۔ اس پر اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم اس بات پر اتفاق ہے کہ بابا گرو نانک کی میت چادر کے نیچے سے غائب ہو چکی تھی اور اس جگہ مقامی لوگوں کو پھول پڑے ملے تھے۔
گردوارہ نکانہ صاحب میں گرونانک جی کے 555 ویں جنم دیہاڑ پروگرام میں 15 نومبر بروز جمعہ ھزاروں کی تعداد میں سکھ یاتری  اندرون و بیرون ممالک سے شرکت کریں گے۔ ان یاتریوں کی سیکیورٹی کیلئے حکومت پنجاب اور پنجاب پولیس کی طرف سے انتہائی سخت اقدامات کیئے گئے تھے۔ یاتریوں کیلئے مقامی سکھ تنظیموں اور محکمہ اوقاف کی طرف سے لنگر کا وسیع انتظام ھوگا۔  ریسکیو۔ سول ڈیفینس۔ ٹیلیفون۔ بجلی۔ بلدیہ۔ پولیس۔ 1122۔ ایدھی۔ ایلیٹ فورس۔ رینجرز۔ سپیشل برانج۔  سمیت 30 سے ذائد اداروں کے اھلکاران الرٹ موجود ھوں گے۔ گردوارہ میں یاتریوں کو صحت کی صحولیات فراھم کرنے کیلیئے مختلف تنظیموں۔ سوسائیٹیوں۔ اداروں کی طرف سے فری طبی کیمپس بھی لگائے جائیں گے۔ بابا گرونانک دیو کی 555 ویں جنم دن تقریبات میں شریک یاتریوں کو حکومت پنجاب کی طرف سے ھر ممکن سہولیات بہم پہنچائی جائیں گی۔