سموگ ہمارے طرز عمل کا نتیجہ ہے،پڑوسی ملک کا کردار صرف 30 فیصد ہے ، ، اسے ایمرجنسی کے طور پر لینا ہوگا ‘ تمام اداروں کو مشترکہ اقدامات کرنے ہوں گے
سموگ ایمرجنسی ہمارے طرز زندگی اور غیرذمہ داری کی وجہ سے ہے‘ تمام وسائل جھونک کر آفت کو ٹالنا ہوگا، ورنہ ہمارے مستقبل کی ترقی اور قومی صحت خطرے میں پڑ جائے گی
اسلام آباد(آئی این پی ) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے خبردار کیا ہے سموگ سے قبل ازوقت ڈھائی لاکھ اموات کا خطرہ ہے، تمام وسائل جھونک کر سموگ کی آفت کو ٹالنا ہوگا۔ وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیرصدارت جڑواں شہروں میں اسموگ سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں اسلام آباد اور راولپنڈی کو اسموگ سے بچانے کے لیے پالیسیوں اور اقدامات پر غور کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اسموگ ہمارے طرز عمل کا نتیجہ ہے، اسے ایمرجنسی کے طور پر لینا ہوگا اور تمام اداروں کو مشترکہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام وسائل جھونک کر سموگ کی آفت کو ٹالنا ہوگا، ورنہ ہمارے مستقبل کی ترقی اور قومی صحت خطرے میں پڑ جائے گی۔وزیر منصوبہ بندی نے خبردار کیا سموگ سے ڈھائی لاکھ قبل ازوقت اموات اور تقریبا نو فیصد جی ڈی پی متاثر ہو سکتی ہے، یہ سب ہماری لاپرواہی کا کیا دھرا ہے، پڑوسی ملک کا کردار صرف تیس فیصد ہے۔انھوں نے کہا سموگ ایک بہت بڑی انسانی اور معاشی ایمرجنسی ہے، سموگ ایمرجنسی ہمارے طرز زندگی اور غیرذمہ داری کی وجہ سے ہے، اس سے نمٹنے کیلئے ہنگامی طور پر اقدامات کی ضرورت ہے