سندھ سے نہریں نکالنا زندگی اور موت کا سوال ہے:دوالفقا ر بھٹو جونیئر

 سندھ میں پانی نہیں ہوگا تو نہ صرف انسان بلکہ بہت سی جنگلی اور آبی حیات مر جائیں گی
ہماری حکومت ابھی کانپ رہی ہے، کیونکہ انہوں نے دیکھا  کتنے لوگ احتجاج کر رہے ہیں
کراچی(آئی این پی)پاکستان کی سیاست میں ایک اور نوجوان بھٹو کی آمد ہے، سماجی کارکن اور انسانی حقوق کیلئے آواز اٹھانے والے ذوالفقار علی بھٹو جونئیر متنازع چھ نہروں پر کہنا ہے کہ یہ زندگی اور موت کا سوال ہے۔ذولفقار علی بھٹو جونئیر نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ سندھ میں پانی نہیں ہوگا تو ناصرف انسان بلکہ بہت سے جنگلی اور آبی حیات مر جائیں گی۔ یہ ہمارا کلچرل جینوسائیڈ (ثقافتی نسل کشی) ہوگا، والڈ لائف کا بھی اور انسانیت کا بھی۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت ابھی کانپ رہی ہے، کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ کتنے لوگ احتجاج کر رہے ہیں، اسکول کے بچے بھی احتجاج کر رہے ہیں۔ اسی لئے یہ بیانیہ تبدیل کر رہے ہیں اور منصوبے بھی بالکل سامنے تبدیہل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ دریائے سندھ سے پانی نکالیں گے کیونکہ ستلج میں پانی نہیں ہے، یہ لنک کینال کی کیپیسٹی بڑھائیں گے اور دریائے سندھ کا پانی اس سے ستلج میں جائے گا