غزہ ایک بار پھر اسرائیلی بمباری کی شدت کا شکار ہے، جہاں انسانی بحران انتہائی خطرناک سطح تک پہنچ چکا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق غزہ میں تازہ اسرائیلی حملے کے دوران پانی کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے 17 فلسطینی بچے شہید ہو گئے، جن میں اکثریت کم عمر بچوں کی تھی۔ایندھن کی شدید قلت اور جنگی صورتحال کے باعث اقوام متحدہ کی 8 ایجنسیاں اپنے آپریشنز بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔ یو این کی ریلیف ایجنسی انروا کے مطابق خوراک کی شدید کمی کی وجہ سے ایک اور نومولود بچہ جان کی بازی ہار گیا، جس سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ادھر اسرائیلی حزب اختلاف کے رہنما یائر لاپڈ نے رفح میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے مجوزہ کیمپ کے قیام پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دراصل ایک ’’کنسٹریشن کیمپ‘‘ ہے جہاں فلسطینیوں کو قید رکھا جائے گا اور انہیں نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 58 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ 1 لاکھ 38 ہزار 520 افراد زخمی ہیں۔ ان میں ایک بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جو جنگ کے ہولناک اثرات کا براہِ راست نشانہ بنے ہیں۔اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں نے غزہ کی موجودہ صورتحال کو ’’المناک اور غیر انسانی‘‘ قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔