بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے کرکٹرز کے بیرون ملک دوروں پر اہل خانہ کو ساتھ لے جانے کی پریکٹس پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ حالیہ خراب کارکردگی اور شکستوں کے بعد کیا گیا ہے۔ بھارتی ٹیم کو نیوزی لینڈ کے ہاتھوں ہوم گراؤنڈ پر وائٹ واش اور پھر آسٹریلیا کے ہاتھوں بارڈر-گواسکر ٹرافی میں 1-3 سے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس سے بی سی سی آئی کے اعلیٰ حکام میں غصہ بھڑک اُٹھا۔بی سی سی آئی کی میٹنگ میں سلیکٹر اجیت اگرکر، ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر اور کپتان روہت شرما سمیت دیگر بورڈ اراکین بھی موجود تھے، جنہوں نے کھلاڑیوں کے ساتھ اہل خانہ کے دوروں پر ایک نئی پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔ بورڈ کا ماننا ہے کہ دورے کے دوران کھلاڑیوں کے اہل خانہ کے ساتھ رہنے سے ان کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ فیملیز کو دوروں کے دوران محدود وقت کے لیے ساتھ لے جانے کی اجازت دی جائے گی۔یہ اصول کورونا وائرس کی وبا کے دوران ختم کر دیے گئے تھے، مگر اب دوبارہ ان کو متعارف کرایا جا رہا ہے۔
نئے قوانین کے مطابق، 45 دن تک ہونے والے بیرون ملک دوروں پر کھلاڑیوں کی اہلیہ اور اہل خانہ صرف 14 دن تک ساتھ رہ سکتے ہیں، جبکہ چھوٹے دوروں پر یہ مدت صرف 7 دن تک محدود رہے گی۔اس کے علاوہ، بھارتی کرکٹرز کو دوروں کے دوران ٹیم کے ساتھ سفر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ پہلے کچھ کھلاڑی ٹیم بس کے بجائے الگ سفر کرتے تھے، لیکن اب کوئی بھی کھلاڑی چاہے وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اسے الگ سفر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس فیصلے کا مقصد کھلاڑیوں کے درمیان یکجہتی کو فروغ دینا اور ٹیم کی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔بی سی سی آئی کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے کھلاڑیوں کی کارکردگی پر مثبت اثر ڈالیں گے اور ٹیم کو اپنی پرفارمنس میں بہتری لانے کا موقع ملے گا۔