تین ارب 47 کروڑ کا مہنگا گھر جل کر خاکستر

لاس اینجلس(نیٹ نیوز) امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں تاریخ کی تباہ کن ا?تشزدگی کے بعد اب تک ایک لاکھ سے زائد لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیں جبکہ ا?تشزدگی کے باعث سب سے مہنگا گھر بھی جل کر خاکستر ہوگیا۔ذرائع کے مطابق پیسیفک پیلی سیڈز (لاس اینجلس کا ایک زیلی علاقہ) میں تعمیر شدہ یہ گھر فن تعمیرات کا شاہکار تھا، جسے بے رحم آگ نے راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیا۔ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق 18 کمروں پر مشتمل یہ عظیم الشان محل نما بنگلہ بحرالکاہل کے کنارے پہاڑی پر واقع تھا اور اس کے کمرے سمندر کا شاندار نظارہ پیش کرتے تھے۔اس گھر کی قیمت 125 ملین ڈالرز تھی جو پاکستانی کرنسی میں تین ارب 47 کروڑ روپے سے زائد بنتے ہیں۔اس خوبصورت اور عالی شان گھر کا مالک 29 سالہ آئسٹن رسل ہے جو ’لومینار ٹیکنالوجیز‘نامی کمپنی کا بھی مالک ہے، اس قیامت خیز آگ سے تباہ ہونے سے پہلے اس کا صرف کرایہ ہی ساڑھے چار لاکھ ڈالرز ماہانہ تھا۔رپورٹ کے مطابق آئسٹن رسل نے یہ خوبصورت بنگلہ تین سال پہلے 2021 میں 83 ملین ڈالرز کے عوض خریدا تھا۔ساحل سمندر کے محل وقوع پر اس بنگلے کی انفرادیت یہ تھی کہ اس میں معروف جاپانی شیف نوبو متسہیسا کا ڈیزائن کردہ شاندار کچن تھا، اس کے علاوہ چھ واش رومز اور ایک چھوٹا سا پرائیویٹ سینما بھی موجود تھا۔اس پْرتعیش اور جدید طرز تعمیر کے شاہکار اس بنگلے کے تہہ خانے میں درجہ حرارت کو برقرار رکھنے کیلئے اس جدید چار منزلہ گھر کے تہہ خانے میں درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے لیے جدید طرز کا سمارٹ ویدر کنٹرول سسٹم موجود تھا جبکہ رات کو ستاروں کا نظارہ کرنے کے لیے گاڑی کی سن روف کی طرح حرکت کرنے والی چھت بھی تھی۔لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ اس عالی شان گھر کو دہکتے شعلوں نے تباہ و برباد کردیا اور اس کا کوئی ایک کمرہ بھی محفوظ نہیں رہا