اسلام آباد: سینیٹ میں اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد منظور کر لی گئی، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو پرامن جلسے منعقد کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
تاہم، اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج اور نعرے بازی بھی کی۔
پیکا ایکٹ پر بحث سے قبل اجلاس ملتوی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے پیکا ایکٹ کے خلاف قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کورم کی نشاندہی کر کے اجلاس ملتوی کروا دیا۔
سینیٹ اجلاس کی کارروائی
سینیٹ کا اجلاس چیئرپرسن شیری رحمان کی زیر صدارت ہوا، جس میں مختلف اہم بلز بھی پیش کیے گئے، جن میں:
مالیاتی بل اور انکم ٹیکس ترمیمی بل 2025 (جس پر پیر تک تجاویز طلب کی گئیں)
تارکین وطن کی اسمگلنگ کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل 2025
روک تھام ٹریفیکنگ ان پرسنز ترمیمی بل 2025
امیگریشن آرڈنینس 1979 میں ترمیم کا بل
سیاسی جلسوں پر پابندی کے خلاف قرارداد اور اپوزیشن کا احتجاج
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سینیٹر ہدایت اللہ نے جلسوں پر پابندی کے خلاف احتجاج کیا، جس پر اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے قرارداد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کہیں بھی پرامن جلسہ کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے، کیونکہ یہ پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کا بنیادی حق ہے۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ پنجاب حکومت سے متعلق ہے اور وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو مجبور نہیں کر سکتی۔ انہوں نے تجویز دی کہ قرارداد کو آئین اور قانون کے مطابق مشروط کیا جائے، تاہم پی ٹی آئی نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔
پی ٹی آئی سینیٹرز کا احتجاج
پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ حکومت اور اتحادی جماعتوں کو جلسے کرنے کی کھلی اجازت ہے، جبکہ پی ٹی آئی کو مسلسل روکا جا رہا ہے۔ ان کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی سینیٹرز نے چیئرپرسن شیری رحمان پر تنقید شروع کر دی اور سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر کے باوجود انہیں اجلاس میں نہ لانے پر سوالات اٹھائے۔
اجلاس ملتوی
اپوزیشن ارکان کو فلور نہ ملنے پر انہوں نے شدید احتجاج اور نعرے بازی کی، جس کے بعد کورم کی نشاندہی کی گئی۔ کورم پورا نہ ہونے کے باعث اجلاس پیر کی شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔