متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے ابو ظہبی میں شام کے عبوری صدر احمد الشرع سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ ان کا ملک شام کی تعمیر نو اور انتقالی مرحلے کے چیلنجز سے نمٹنے میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
شیخ محمد بن زاید نے مزید کہا کہ یو اے ای شام کے استحکام، سلامتی اور ترقی کو پورے خطے کے مفاد میں سمجھتا ہے اور شامی عوام کی مدد کے لیے پرعزم ہے۔احمد الشرع کی قیادت میں شامی حکومت نے بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے خلیجی ممالک سے مالی امداد کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ماضی میں، یو اے ای کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے شام کی نئی حکومت کی اسلام پسند شناخت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ تاہم، حالیہ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام اور دو طرفہ تعاون بڑھانے پر زور دیا۔شام کی تعمیر نو کے لیے بین الاقوامی امداد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل صرف اینٹوں اور مارٹر سے کہیں زیادہ کا متقاضی ہے۔ اس میں شامی معاشرے کی سماجی اور معاشی بحالی بھی شامل ہے تاکہ ایک مضبوط اور مستحکم ملک کی تشکیل ممکن ہو سکے۔
ترکی نے بھی شام کی مدد کا عہد کرتے ہوئے ریاستی ڈھانچے کی تعمیر نو اور نئے آئین کی تشکیل میں معاونت کی پیشکش کی ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ ترکی شام میں امن اور استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ ان بین الاقوامی کوششوں کے باوجود، شام کی تعمیر نو اور استحکام کے لیے جامع اور مستقل مزاجی سے کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک ایک پرامن اور خوشحال مستقبل کی جانب گامزن ہو سکے۔