ہیت التحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کے فوجی سربراہ مرہف ابو قصریٰ نے ایچ ٹی ایس کے مسلح ونگ کو تحلیل کرنے اور اسے شامی فوج میں ضم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد شام میں قومی یکجہتی کو مزید مستحکم کرنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ملک میں کوئی وفاقی نظام نہیں ہو گا۔ابو قصریٰ نے وضاحت کی کہ کرد علاقے شامی عوام کا حصہ ہیں اور ان کا انضمام شام کی نئی قیادت کے تحت کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے شام کی داخلی وحدت کو اہمیت دی اور کہا کہ شام کبھی بھی تقسیم نہیں ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی حملوں اور جنوبی شام میں دراندازی کے بارے میں تنظیم کا موقف یہ ہے کہ یہ تمام اقدامات نا انصافی ہیں اور ان کے خلاف عالمی برادری سے مدد کی درخواست کی۔
مرہف ابو قصریٰ نے امریکہ اور مغربی ممالک سے درخواست کی کہ وہ ایچ ٹی ایس کے احمد الشراء پر سے دہشت گردی کا لیبل ہٹا دیں۔ ان کے مطابق، یہ لیبل لگانا غیر منصفانہ ہے اور ایچ ٹی ایس بالآخر ریاستی اداروں میں ضم ہو جائے گی۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب شام میں داخلی سیاسی اور فوجی صورتحال پیچیدہ ہو چکی ہے، اور عالمی برادری کی جانب سے شامی بحران کے حل کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔