حکومتی پالیسیوں سے 60سال یا زیادہ عمر کے لوگوں کا نقصان ہو رہا ہے جسٹس حسن اظہر رضوی

 سپر ٹیکس میں آپ کمپنیوں سے ٹیکس لے رہے ہیں، نقصان لوگوں کا ہورہا ہے‘حکومت کس طرح کی پالیسیاں بنا رہی ہے: کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس‘سماعت پیر تک ملتوی
اسلام آباد( آن لائن)سپریم کورٹ کے آئینی بنچ  نے  سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی ہے جبکہ بنچ کے رکن  جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا حکومت کس طرح کی پالیسیاں بنا رہی ہے؟ پالیسیوں سے 60سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کا نقصان ہو رہا ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا پروویڈنٹ فنڈز میں کٹوتی بھی ہوتی ہے؟کیا فنڈز بیواو ں کو بھی جاتا ہے؟یہ اعتراض کہیں اٹھایا کہ ایسے ہی درخواست دائر ہو گئی؟انھوں نے یہ ریمارکس جمعہ کے روزدیے ہیں۔سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی آئینی بنچ میں سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی۔وکیل عاصمہ حامد نے کہا اسلام آبادہائیکورٹ فیصلے کے 2پیراگراف میں تضاد ہے،ایک پیراگراف میں کہا گیا ٹیکس نہیں لگے گا، ایک میں کہہ رہے ہیں لگے گا، عدالت نے کہا  سپر ٹیکس میں آپ کمپنیوں سے ٹیکس لے رہے ہیں، نقصان لوگوں کا ہورہا ہے،جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا حکومت کس طرح کی پالیسیاں بنا رہی ہے؟ پالیسیوں سے 60سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کا نقصان ہو رہا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ پروویڈنٹ فنڈز میں کٹوتی بھی ہوتی ہے؟کیا فنڈز بیوائوں کو بھی جاتا ہے؟یہ اعتراض کہیں اٹھایا کہ ایسے ہی درخواست دائر ہو گئی؟ وکیل عاصمہ حامد نے کہاکہ شوکاز نوٹس  کیا گیا تھا جس پر یہ درخواست آئی ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ یہ تو ’’آبیل مجھے مار‘‘والی بات ہو گئی،وکیل ایف بی آر نے کہاکہ سیکشن 4سی اور 9کو ملا کر پڑھا جائے گا، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ ان دونوں سیکشنز کو ایک ساتھ پڑھنے کا مقصد کیا تھا؟جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ایکٹ کے تحت کیا ٹیکس ریٹ فکس ہوتا ہے؟وکیل نے کہاکہ 1979کے آرڈیننس کے بعد ایک ترمیم آ ئی ہے، اس میں فکس ہوتا ہے،عدالت نے کیس کی سماعت پیر صبح ساڑھے 9تک ملتوی  کردی۔