بیوی کے قتل کے الزام میں عمر قید پانے وا لا بری

لاہور ہائیکورٹ نے بیوی کو گولیاں مار کر قتل کرنے کے الزام میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم کوبری کر دیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد فاروق نے پانچ برس بعد ملزم کو عمر قید دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے ملزم کی اپیل پر 10صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔فیصلہ میں کہا گیا کہ نیویارک ٹائمز کی تازہ ریسرچ کے مطابق خواتین میں پسٹل کے ساتھ خودکشی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، پاکستان میں خواتین کی جانب سے پسٹل سے خودکشی کا ٹرینڈ خاموشی سے بڑھ رہا ہے۔عدالت نے فیصلہ میں قرار دیا کہ پراسیکیوشن کی کہانی کے مطابق دونوں بیویاں آپس میں لڑتی تھیں مگر اس کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا، میڈیکل رپورٹس کے مطابق مقتولہ کے سر میں گولی کا نشان ہے جس سے خودکشی کا تاثر ملتا ہے، پراسکیوشن کا کام تھا کہ وہ یہ ثابت کرے کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل ہے، پراسکیوشن کی کہانی میں بے شمار تضاد پائے گئے ہیں۔ ملزم کے خلاف شیخوپورہ میں 2020 میں قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔