انٹارکٹیکا کے سمندر کی تہہ سے کچھ خطرناک لیک ہورہا ہے، سائنسدان پریشان

 جمع ہونے والی یہ گیس چھوٹے چھوٹے بلبلوں کی شکل میں پانی کے ذریعے سطح پر آتی ہے
واشنگٹن(آئی این پی )سائنسدانوں نے انٹارکٹیکا کی سمندری تہہ سے میتھین گیس کے نئے رسا دریافت کئے ہیں، جو زمین کی حرارت بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں۔یہ رسائو ایک حیران کن رفتار سے سامنے آ رہے ہیں اور ماہرین کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں عالمی حرارت کے تخمینے کم لگائے گئے ہوں گے۔میتھین گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں 20 سال میں 80 گنا زیادہ حرارت جذب کرتی ہے۔ سمندر کے نیچے صدیوں میں جمع ہونے والی یہ گیس چھوٹے چھوٹے بلبلوں کی شکل میں پانی کے ذریعے سطح پر آتی ہے۔بین الاقوامی سائنسدانوں کی ٹیم نے راس سی، انٹارکٹیکا میں مختلف مقامات پر تحقیق کی جس کے نتائج کے مطابق انہوں نے 40 سے زیادہ نئے میتھین رسا دریافت کئے۔ کچھ رسا ایسے مقامات پر تھے جہاں پہلے بھی تحقیق ہو چکی تھی، لیکن یہ نئے رسا تھے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ رسا فضا میں میتھین بڑھا سکتے ہیں، جو زمین کی حرارت کو تیز کرے گا۔ یہ سمندری حیات پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔ڈاکٹر اینڈریو تھربر نے کہا، اگر زمین کی حرارت بڑھتی رہی تو یہ رسا قدرتی تجربہ گاہ سے خطرے کا مرکز بن سکتے ہیں ۔میتھین کے یہ رسا موسمیاتی تبدیلی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ یعنی زیادہ گرم موسم مزید رسا پیدا کر سکتا ہے اور یہ عمل مسلسل بڑھ سکتا ہے