امریکا میں نیا ریکارڈ؛ 50 میں سے 13 ریاستوں میں خاتون گورنرز منتخب

امریکا میں نیا ریکارڈ؛ 50 میں سے 13 ریاستوں میں خاتون گورنرز منتخب

ویب ڈیسک:ری پبلکن پارٹی کی خاتون امیدوار کیلی ایوٹ نے ریاست نیو ہیمپشائر میں گورنر کا انتخاب جیت لیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق، ایوٹ نے ڈیموکریٹ پارٹی کی امیدوار اور مانچسٹر کی سابق میئر جوئس کریگ کو شکست دے کر گورنر کا عہدہ حاصل کیا۔کیلی ایوٹ سابق سینیٹر بھی رہ چکی ہیں اور ان کی کامیابی کے بعد امریکا میں خاتون گورنرز کی تعداد 13 ہو گئی ہے، جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل 2022 میں خاتون گورنرز کی سب سے بڑی تعداد 12 تھی۔ ایوٹ کی کامیابی نے خواتین کی سیاست میں بڑھتی ہوئی شمولیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔

امریکا میں خواتین کی سیاسی نمائندگی: کیلی ایوٹ کی گورنر منتخب ہونے کے بعد، امریکا میں 13 ریاستوں میں خواتین گورنر ہیں، جو کہ ایک تاریخی کامیابی ہے۔ تاہم، یہ بات بھی اہم ہے کہ امریکا کی 50 ریاستوں میں سے 18 ایسی ریاستیں ہیں جہاں کبھی کوئی خاتون گورنر منتخب نہیں ہوئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابھی بھی امریکہ میں خواتین کی سیاسی نمائندگی کی ایک بڑی کمی موجود ہے۔

امریکا کی صدارتی سیاست میں خواتین کی نمائندگی: امریکا میں خواتین کی سیاسی نمائندگی کے حوالے سے ایک اور اہم موقع اس وقت آیا تھا جب کملا ہیرس صدارتی الیکشن میں شریک ہوئیں۔ اگرچہ کملا ہیرس امریکہ کی پہلی خاتون نائب صدر منتخب ہوئیں، لیکن 2020 کے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح اور کملا ہیرس کی شکست کو بعض حلقے مردانہ سوچ کی غالبیت سے جوڑتے ہیں۔ مرد ووٹرز کی ایک بڑی تعداد نے صرف اس وجہ سے کملا ہیرس کو نظرانداز کر دیا کہ وہ خاتون تھیں اور ان کی بجائے ٹرمپ کو ترجیح دی۔

ٹرمپ کی فتح اور مردانہ سوچ کا غلبہ: کملا ہیرس کی شکست اور ٹرمپ کی کامیابی کو ایک ایسی حقیقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں مردانہ سوچ اور روایتی جنس پرستی کا اثر نظر آتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، امریکا کے کچھ حلقوں میں یہ بات کہی جا رہی ہے کہ مرد ووٹرز نے خواتین کی قیادت کی مخالفت کی اور انہیں نہ صرف سیاست بلکہ صدارتی انتخاب میں بھی نقصان پہنچایا۔

نتیجہ: کیلی ایوٹ کی گورنر منتخب ہونے کی کامیابی خواتین کی سیاسی زندگی میں ایک سنگ میل ثابت ہوتی ہے اور امریکا میں خواتین کی قیادت کی موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کی امید پیدا ہوتی ہے، تاہم خواتین کے لیے سیاست میں مکمل مساوات اور قبولیت حاصل کرنے کے لیے ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔