روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنی پہلی ٹیچر ویرا گوریوچ کو ماسکو میں 9 مئی کی یومِ فتح پریڈ کے موقع پر خصوصی طور پر مدعو کیا اور بعد ازاں کریملن میں ان کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔
روسی میڈیا کے مطابق یہ ملاقات رسمی نوعیت سے بڑھ کر ایک جذباتی لمحہ تھی، جس میں پیوٹن اور ان کی استاد کے دیرینہ تعلق اور باہمی احترام کو نمایاں طور پر دیکھا گیا۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق پیوٹن خود اپنی ٹیچر کو ہوٹل سے لینے بھی گئے اور گاڑی چلا کر انہیں کریملن لے آئے۔ویرا گوریوچ نے یومِ فتح پریڈ میں شرکت کی اور اسے روسی عوام کے لیے “خوشی اور غم دونوں” کی علامت قرار دیا، کیونکہ یہ دوسری جنگِ عظیم میں سوویت یونین کی قربانیوں کی یاد دلاتی ہے۔پریڈ کے بعد ان کے لیے ماسکو میں ایک خصوصی ثقافتی پروگرام بھی ترتیب دیا گیا، جس میں تاریخی مقامات کا دورہ شامل تھا، جبکہ بعد میں کریملن میں ہونے والے عشائیے نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی۔
ویرا گوریوچ طویل عرصے تک پیوٹن کی اسکول ٹیچر رہی ہیں اور بعد ازاں انہوں نے ان کی ابتدائی زندگی پر یادداشتیں بھی تحریر کیں۔ پیوٹن مختلف مواقع پر اپنے اساتذہ کے لیے احترام کا اظہار کرتے رہے ہیں۔روسی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر اس ملاقات کو “استاد کے احترام” اور “روایتی اقدار” کی مثال قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مبصرین کے مطابق ایسے مناظر پیوٹن کی عوامی شبیہ کو مزید انسانی انداز میں پیش کرتے ہیں۔