اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والی مانیٹرنگ ٹیم کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر دی ہے، جس کے لیے تمام 15 ارکان نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کی۔
نئے فیصلے کے تحت ٹیم کا مینڈیٹ 17 فروری 2027 تک بڑھ گیا ہے۔یہ ٹیم 1988 افغانستان پابندیوں کی کمیٹی کی معاونت کرتی ہے اور طالبان پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ قرارداد امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تھی اور پاکستان نے بھی اس کی حمایت کی۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ کالعدم تنظیمیں جیسے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، داعش خراسان (آئی ایس آئی ایل-کے) اور القاعدہ پاکستان کے خلاف سنگین دہشت گرد حملوں میں ملوث رہی ہیں۔مندوب نے زور دیا کہ افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور طالبان کو دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
مانیٹرنگ ٹیم کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغانستان میں متعدد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں اور بعض کو سازگار ماحول میسر ہے، خاص طور پر ٹی ٹی پی کو۔ رپورٹ میں سرحد پار حملوں، انتہا پسندی کے پھیلاؤ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق القاعدہ خطے اور اس سے باہر کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ داعش خراسان شمالی افغانستان میں موجود ہے اور بی ایل اے نے بھی پاکستان میں سیکیورٹی فورسز اور سی پیک منصوبوں پر حملے کیے ہیں۔سلامتی کونسل نے واضح پیغام دیا کہ افغان سرزمین دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں بننی چاہیے اور تمام رکن ممالک کو یرغمالیوں کے بدلے تاوان یا سیاسی رعایتوں سے گریز کرنا ہوگا۔