ایران کا آبنائے ہرمز سے ٹیکس کو جنگی ہرجانے کے حصول کا ذریعہ بنانے کا عندیہ

ایران کا آبنائے ہرمز سے ٹیکس کو جنگی ہرجانے کے حصول کا ذریعہ بنانے کا عندیہ

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ طور پر ایک نیا نظام متعارف کرانے کے بیانات سامنے آئے ہیں، جنہیں خطے کی بحری سلامتی اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ایران کے سرکاری اور نیم سرکاری بیانات کے مطابق آبنائے ہرمز کے انتظام یا اس سے متعلق قواعد میں تبدیلی کا مقصد خطے میں سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانا ہے۔ اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ایران اپنی دفاعی اور اسٹریٹجک پالیسی میں سخت اور واضح مؤقف اختیار کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز س  دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں سے ایک ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی تناظر میں ایران کے حالیہ بیانات کو خطے میں بڑھتی ہوئی جیوپولیٹیکل کشیدگی سے جوڑا جا رہا ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ایران کی پالیسی میں دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ سخت معاشی اور سیاسی مؤقف بھی شامل ہو سکتا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی باتیں زیر بحث آ رہی ہیں۔

رپورٹ میں بعض تجزیہ کاروں کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران خطے میں اپنے اثر و رسوخ کے تناظر میں نئی حکمتِ عملی اپنا رہا ہے، جس کا مقصد عالمی اور علاقائی سطح پر اپنی پوزیشن کو بہتر بنانا ہو سکتا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق مختلف ذرائع سے ضروری سمجھی جاتی ہے۔مزید یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ایران نے ماضی میں بعض سفارتی چینلز کے ذریعے بات چیت کی کوششیں کی ہیں، اور بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ اس معاملے پر مختلف دارالحکومتوں میں غیر رسمی رابطے ہوئے، تاہم ان تفصیلات کی باضابطہ تصدیق موجود نہیں۔موجودہ صورتحال میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بات چیت کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، لیکن خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سخت بیانات کی وجہ سے فوری اور نتیجہ خیز سفارتی پیش رفت فی الحال مشکل نظر آ رہی ہے۔