خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ آسان نہیں تھا: محسن نقوی

 صوبائی حکومت کو اعتماد میں لینے کے لیے ایک ماہ سے زائد عرصے تک کوششیں کی گئیں،وفاقی حکومت کی کوشش تھی کہ خیبرپختونخوا حکومت کو ساتھ ملا کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا جائے: وفاقی وزیر داخلہ
کیپی میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے واقعات میں تقریباً 200 فیصد اضافہ ہوا ہے: اعظم نذیر تارڑ،پی ٹی آئی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ نہیں، دہشت گردوں سے گٹھ جوڑ ہے، عطا اللہ تارڑ
اسلام آباد: (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ حکومت کے لیے آسان نہیں تھا، صوبائی حکومت کو اعتماد میں لینے کے لیے ایک ماہ سے زائد عرصے تک کوششیں کی گئیں، تاہم تمام تر رابطوں اور مذاکرات کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔اسلام آباد میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور ثمر ہارون بلور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی کوشش تھی کہ خیبرپختونخوا حکومت کو ساتھ ملا کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا جائے، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ تمام حکومتوں کو مل کر لڑنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہی اور مختلف معاملات پر پیشرفت بھی جاری تھی۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے اعلان سے پہلے ہی اس کے بیشتر مطالبات پر کام ہو رہا تھا اور ملاقاتوں سمیت دیگر معاملات پر بھی بات چیت جاری تھی۔محسن نقوی نے سوال اٹھایا کہ جب مطالبات پر پیشرفت ہو رہی تھی اور مسائل کے حل کے لیے کوششیں جاری تھیں تو پھر لانگ مارچ کا اعلان کیوں کیا گیا؟وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان دو روز تک مذاکرات ہوئے، اس دوران مذاکراتی مسودے کو چار مرتبہ حتمی شکل دی گئی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے تجویز کردہ پانچ سے چھ ترامیم بھی قبول کرلی گئیں، تاہم تمام نکات پر اتفاق ہونے کے بعد اچانک ایک نیا مسودہ سامنے آگیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات 15 یا 16 ستمبر کو طے کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ ان کے بیرون ملک روانہ ہونے سے پہلے ملاقات کرا کے صورتحال معمول پر لائی جاسکے۔محسن نقوی کے مطابق اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے پر بھی بات چیت ہوئی، جس کے بعد وزیراعظم اور اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات ہوئی اور مذاکراتی کمیٹی قائم کی گئی۔ اس کمیٹی کے ذریعے پی ٹی آئی کے ساتھ دو روز تک مذاکرات جاری رہے۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس جنگ میں ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اس موقع پر خیبرپختونخوا حکومت کو بھی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں میں شامل کرنے پر زور دیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات بھی ہوئی، جبکہ مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ ان کوششوں کے باوجود کوئی پیشرفت نہ ہوسکی۔اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے واقعات میں تقریباً 200 فیصد اضافہ ہوا ہے، بدقسمتی سے زیادہ تر حملوں کا نشانہ پاک فوج، خیبرپختونخوا پولیس اور علما کرام بنے۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں آگ لگی ہوئی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے اثرات دوسرے صوبوں تک بھی پہنچ رہے تھے، ایک طرف معیشت کو چلانے کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف دہشت گردی بڑھ رہی ہے، ایسے حالات میں کون سرمایہ کاری کرنے آئے گا؟وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے غیر سنجیدہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے انتظامی حالات تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے تھے۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تمام سیاسی جماعتوں پر حملے ہوئے، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ تحریک انصاف پر حملے کیوں نہیں ہوئے؟ ان کے بقول پی ٹی آئی کے تانے بانے دہشت گردوں سے جاملتے ہیں اور اس کی دہشت گردوں کے ساتھ شراکت داری ہے۔عطا اللہ تارڑ نے پولیس ایکٹ پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد پی ٹی آئی کے حامیوں کو پولیس فورس میں جگہ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس گروہ سے نجات حاصل ہوئی ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ٹیکنوکریٹ صوبے کا روشن ستارہ ہے اور اس کی سلیکشن میرٹ پر کی گئی ہے۔