موئن جو دڑو سے مشابہہ ایک اور قدیم تہذیب کا انکشاف، داہمراہ جو دڑو دریافت

موئن جو دڑو سے مشابہہ ایک اور قدیم تہذیب کا انکشاف، داہمراہ جو دڑو دریافت

ویب ڈیسک: سندھ کی سرزمین ایک اور تاریخی انکشاف کی گواہ بن گئی، موئن جو دڑو سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک نئے آثار قدیمہ "داہمراہ جو دڑو" کی دریافت سامنے آئی ہے، جسے ماہرین نے موئن جو دڑو سے مشابہہ قرار دیا ہے۔

یہ انکشاف محکمہ آثار قدیمہ کی ٹیم نے کیا، جس کی سربراہی موئن جو دڑو کے کیوریٹر ظہیر الدین جوکھیو کر رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں ماہرین آثار قدیمہ کی ٹیم نے نئے دریافت شدہ مقام داہمراہ جو دڑو کا دورہ کیا اور ابتدائی کھدائی کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ظہیر الدین جوکھیو کے مطابق، "داہمراہ جو دڑو" ایک بدھ مت دور کی تہذیب سے تعلق رکھتی ہے اور اپنی ساخت، طرز تعمیر اور باقیات کے حوالے سے موئن جو دڑو سے حیرت انگیز طور پر مشابہت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دریافت نہ صرف خطے کی قدیم تہذیبوں کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ بدھ مت دور کے اثرات کی مزید وضاحت بھی کرتی ہے۔کیوریٹر کا کہنا تھا کہ اس وقت شدید گرمی کے باعث کھدائی کے عمل میں مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے کھدائی کا سلسلہ وقتی طور پر محدود کیا گیا ہے اور مکمل و منظم کھدائی کا کام موسم نارمل ہونے کے بعد دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ "داہمراہ جو دڑو" کی دریافت سے وادی سندھ کی تہذیب کے بارے میں نئی معلومات سامنے آسکتی ہیں، اور یہ مقام عالمی آثار قدیمہ میں ایک اہم اضافہ ثابت ہو سکتا ہے۔یہ دریافت پاکستان کے آثار قدیمہ کے ذخیرے میں ایک قیمتی اضافہ ہے اور متعلقہ حکام سے اس تاریخی مقام کو محفوظ بنانے اور اسے عالمی سطح پر روشناس کرانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔