پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سمیت مسائل حل کرانا چاہتے ہیں: امریکہ

حیران نہ ہوں اگر صدر ٹرمپ کسی معاملے کو حل کر لیں، دنیا انہیں جانتی ہے  وہ واحد شخص ہیں جو فریقین کو مذاکرات کی میز پر لا سکتے ہیں:ترجمان محکمہ خارجہ کی پریس کانفرنس
دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان اہم شراکت دار ہے‘ہمیں پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ تعلقات رکھنا ہوں گے:سربراہ سینٹکام جنرل کوریلا کی سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی میں گفتگو

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا ہے  صدر ٹرمپ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سمیت مسائل حل کرانا چاہتے ہیں۔واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے  حیران نہ ہوں اگر صدر ٹرمپ کسی معاملے کو حل کر لیں، دنیا انہیں جانتی ہے، وہ واحد شخص ہیں جو فریقین کو مذاکرات کی میز پر لا سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ بین الاقوامی سطح پر قیام امن کے لیے متحرک کردار ادا کر رہے ہیں اور مختلف تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں انڈر سیکرٹری ایلیس ہوکر نے بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستانی سفارتی وفد سے ملاقات کی جس میں پاک بھارت جنگ بندی کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ترجمان نے کہا  شکر ہے  پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے اور ہمیں امید ہے کہ یہ استحکام آگے بھی برقرار رہے گا، پاکستانی وفد کے ساتھ ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف تعاون، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی پر بھی گفتگو کی گئی۔دریں اثناء امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں امریکی سینٹکام کے سربراہ جنرل مائیکل ایرک کوریلا نے  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو اہم شراکت دار قرار دیا ہے۔جنرل مائیکل ایرک کوریلا کا کہنا ہے کہ داعش خراساں اس وقت عالمی سطح پر سب سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں میں شمار ہوتی ہے، پاکستان ایک غیر معمولی انسدادِ دہشت گردی شراکت دار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان سے قریبی انٹیلی جنس تعاون سے داعش خراساں کے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک اور گرفتار کیا گیا، ان گرفتاریوں میں تنظیم کے کم از کم پانچ انتہائی مطلوب رہنما بھی شامل ہیں۔جنرل مائیکل ایرک کوریلا نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام نے انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے امریکا کو کئی اہم کامیابیاں دلائیں‘ اس وقت یہ دہشت گرد گروہ پاکستان اور افغانستان کی سرحدی پٹی میں سرگرم ہے، ‘پاکستان انسدادِ دہشت گردی کی فعال جنگ لڑ رہا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ داعش خراسان کمزور ہو چکی اور اس کی سرگرمیوں میں کمی ا?ئی ہے۔سربراہ امریکی سینٹکام نے یہ بھی کہا ہے کہ ہمیں پاکستان اور بھارت دنوں کے ساتھ تعلقات رکھنا ہوں گے، میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایسا دو ٹوک فیصلہ ہے کہ اگر بھارت سے تعلق ہو تو پاکستان سے نہیں ہو سکتا۔