لاہور (کرائم رپورٹر)دریائے سندھ میں چشمہ کے مقام پر درمیانے درجے کے سیلاب کے بعد میانوالی، لیہ اور بھکر کیلئے فلڈ وارننگ جاری کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کوالرٹ رہنے کی ہدیت جاری کر دی گئی ۔چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے پی ڈی ایم اے کو ہدایت کی ہے کہ دریا کنارے غیر محفوظ علاقوں سے آبادی کے انخلاء کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے یہ ہدایت سول سیکرٹریٹ میں ڈپٹی کمشنرز کے ویڈیو لنک اجلاس کے دوران جاری کی ۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے،محکمہ موسمیات نے مون سون میں معمول سے 20تا 25فیصد زیادہ بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بارشوں کے باعث حادثات میں 25جون سے اب تک پنجاب میں 39افراد جاں بحق اور 103زخمی ہوئے ہیں۔ بارشوں کے باعث فضائی آپریشن شدید متاثر ہوا ہے اوردرجنوں پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر اور بعض کی روانگی منسوخ ہو گئی۔ ادھر چنیوٹ میں بارش آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا ، دریں اثنا آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد میں بادل پھٹنے سے تباہی مچ گئی ، گوہرآباد میں متعدد مکانات اور املاک کونقصان پہنچا، سڑکیں اورگلیاں زیرِآب آگئیں جبکہ درجنوں مویشی سیلابی ریلے میں بہہ گئے اور شاہراہ لیپہ لینڈ سلائیڈنگ سے بند ہوگئی گلگت بلتستان میں سیلاب اور لینڈ سلا ئیڈنگ کی صورتحال پیداہوگئی ہے، چلاس،ہنزہ اوردیامر میں شاہراہ قراقرم سمیت کئی سڑکیں اوررابطہ پل بند ہوگئے ۔جبکہ بلوچستان کے ضلع خضدار کے دور افتادہ علاقے سارونہ میں سیلابی ریلے کی زد میں آکر تین افراد جاں بحق ہو گئے۔ تینوں افراد کا تعلق میراجی قبیلے سے تھا۔ علاوہ ازیں مون سون بارشوں کا یہ سلسلہ 17 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔