بلوچستان کے ضلع ژوب میں پیش آنے والے دہشتگرد حملے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔ اس سانحے میں شہید ہونے والے سپاہی غلام سعید کی جب لاش اُن کے آبائی علاقے میاں چنوں پہنچی تو اُن کے بیمار والد غلام سرور صدمے سے چل بسے۔
واقعے کی تفصیلات:
حکام کے مطابق: شہید غلام سعید کا تعلق ضلع خانیوال کے نواحی گاؤں چک نمبر 72 پندرہ ایل سے تھا۔ وہ اپنے بیمار والد غلام سرور کی عیادت کے لیے چھٹی پر گھر واپس آ رہے تھے کہ بلوچستان کے علاقے ژوب میں دہشت گردوں نے اُن کی بس پر حملہ کیا۔ حملے کے نتیجے میں غلام سعید موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ جیسے ہی ان کے جسد خاکی کو آبائی گاؤں لایا گیا، والد نے اپنے بیٹے کی لاش دیکھ کر دم توڑ دیا۔
دو جنازے، ایک جنازہ گاہ:
دونوں باپ بیٹے کی نمازِ جنازہ ایک ہی وقت میں گاؤں کے اسکول گراؤنڈ میں ادا کی گئی۔ جنازے میں علاقائی سیاسی و سماجی شخصیات، سیکیورٹی اداروں کے افسران، پولیس اہلکار اور اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی، فضا "شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے" کے نعروں سے گونجتی رہی۔
اہلِ خانہ کا غم، قوم کا دکھ:
اہل خانہ کے مطابق:"غلام سعید اپنی والد کی تیمارداری کے لیے بےچینی سے گھر آ رہے تھے، مگر خود شہادت کا رتبہ پا کر پہنچے۔ والد صاحب پہلے ہی بیمار تھے، بیٹے کی لاش نے انہیں زندہ نہ چھوڑا۔"
عوام کا خراجِ عقیدت:
جنازے میں موجود عوام نے غلام سعید کی قربانی اور والد کی بےمثال محبت کو سلام پیش کیا۔
مقامی افراد نے کہا:
"یہ صرف ایک خاندان کا غم نہیں، بلکہ پوری قوم کا دکھ ہے۔"
حکومتی ردعمل:
پنجاب حکومت کی جانب سے غلام سعید اور اُن کے والد کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی گئی اور شہید کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔
حکام نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ
"دہشتگردوں کا کوئی مذہب یا انسانیت نہیں، ہم شہداء کے خون کا حساب ضرور لیں گے۔"
انا للہ و انا الیہ راجعون
سپاہی غلام سعید اور ان کے والد غلام سرور کی المناک موت نے پوری قوم کو غمزدہ کر دیا ہے۔ قوم ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔