وزیراعظم نے سرفہرست دس حکومتی و سرکاری اداروں کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی ،رپورٹ پرنیشنل ایکشن پلان بنے گا
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)وزیراعظم شہبازشریف نے قومی احتساب بیورو(نیب )کو وفاقی اداروں میں کرپشن کے حوالے سے نیشنل رسک اسسمنٹ آن کرپشن(National Risk Assessment on Corruption )رپورٹ تیار کرنے کاحکم دے دیا۔ وزیراعظم نے نیب کو نیشنل رسک اسسمنٹ میں کرپشن کرنے والے سرفہرست دس حکومتی و سرکاری اداروں کی نشاندہی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ وفاقی حکومت نیب کی رپورٹ کی روشنی میں کرپشن کے خاتمے کیلئے نیشنل ایکشن پلان تیار کرے گی۔ وزیراعظم شہبازشریف نے نیب کو کرپشن کے حوالے سے نیشنل رسک اسسمنٹ رپورٹ کی تیاری میں اینٹی منی لانڈرنگ و کمبائٹنگ فنانسنگ ٹیرٹرازم اتھارٹی،ایف آئی اے، ایف بی آر، وزارت خزانہ، آڈیٹرجنرل پاکستان، کنٹرولر جنرل اکائونٹس اور متعلقہ اداروں کا تعاون لینے کاحکم دیاہے۔ وزیراعظم نے نیب کو وفاقی وزارتوں، ڈویڑنوں اورمحکموں میں کرپشن کے حوالے سے نیشنل رسک اسسمنٹ رپورٹ تیار کرنے کیلئے جون2026 کا ہدف دیاہے۔ نیشنل رسک اسسمنٹ برائے کرپشن رپورٹ میں مالی کرپشن کیعلاوہ سرکاری اداروں کی خریداری میں بے ضابطگیاں، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں کرپشن اور بے ضابطگیاں، حکومتی ملکیتی اداروںمیں اختیارات کاغلط استعمال ، حکومتی و سرکاری اداروں میں گورننس کی خامیاں اور غلط استعمال، مالی وانتظامی امور کی نگرانی میں خامیاں ، شفایت اورمیرٹ کافقدان، سیاسی اثرورسوخ،ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری اداروں میں سیاسی بنیادوں پر اخراجات سمیت دیگر امور پررپورٹ تیار کی جائیگی۔نیب نیشنل رسک اسسمنٹ برائے کرپشن رپورٹ میں سرکاری اداروں میں کرپشن کی مختلف طریقہ کار اور اقسام کے حوالے سے بھی رپورٹ تیار کرے گا۔ نیب نیشنل رسک اسسمنٹ رپورٹ میں کرپشن میں سرفہرست دس اداروں کی نشاندہی کرکے کرپشن کے نظام کے حوالے سے رپورٹ تیار کرے گا۔