قادیانیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کرنے والی بچی کی کتاب کی رونمائی کی تقریب اسلام آباد میں ہوئی، جس میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے اس کتاب کو ایک اہم اور اہمیت رکھنے والی تصنیف قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کتاب ایک بہن کی کہانی ہے جس نے کفر کے دائرے کو چھوڑ کر اسلام کو اپنا عقیدہ بنایا، اور انہوں نے بچی کو اس کے اس فیصلہ پر خراج تحسین پیش کیا۔ فضل الرحمان نے کہا کہ اسلام ہی آخری اور سچائی کا راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچی قادیانیت سے تائب ہوکر اسلام میں آئی ہے، اور یہ ایک بڑی تبدیلی کا عمل ہے۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ قادیانیت ایک برطانوی تخلیق ہے، اور اس کا مقصد مسلمانوں کو گمراہ کرنا تھا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسلمانوں نے اس فتنہ کے بارے میں آگاہ کیا اور اس کے خلاف تمام مسالک کے علماء کا اتفاق ہے کہ قادیانی مسلمان نہیں ہیں۔انہوں نے موجودہ عالمی حالات پر بھی بات کی اور کہا کہ دنیا کی بڑی طاقتیں مسلمانوں کے خلاف سازشیں کر رہی ہیں۔ خاص طور پر ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی خریداری کی بات کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے نوآبادیاتی نظام کے دوبارہ آغاز کی نشاندہی کی۔
جے یو آئی کے جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری نے بھی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کرنے والی بچی کی تربیت ایک بہت بڑا کام ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قادیانیت چھوڑنے والوں کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، اور مفتی نعیم اور ان کی اہلیہ نے اس بچی کی رہنمائی اور حفاظت کی۔تقریب میں پاکستان کے آئین کی اہمیت اور اس کے اندر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے فیصلے پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ جے یو آئی نے ہمیشہ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کی ہے اور پارلیمنٹ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس تقریب میں قادیانیت سے اسلام میں آنے والے افراد کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا اور ان کی رہنمائی کو ضروری سمجھا گیا۔