خیبرپختونخوا میں کڑے احتساب کیلئے تیاریاں مکمل، فورس بنانے کا فیصلہ

محکمہ اینٹی کرپشن بے نامی جائیدادوں کی تحقیقات کرسکے گا، ایک سال میں انکوائری مکمل نہ ہونے پر بند کردی جائیگی
غلط کیس بنانیوالے اہلکاروں کو 3سے 7سال کی قید ہوگی،اینٹی کرپشن فورس میں تین ونگز ہوں گے،مشیراحتساب 
پشاور(آئی این پی ) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر خیبرپختونخوا میں کڑے احتساب کے لیے تیاریاں مکمل کرلی گئیں۔ ذرائع کے مطابق عمران خان کی ہدایت پر مشیر احتساب مصدق عباسی نے اینٹی کرپشن فورس ایکٹ تیارکرلیا ہے، اینٹی کرپشن فورس میں تین ونگز ہوں گے اور فورس کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن کریں گے، فورس میں 10سے زیادہ افراد کو بھرتی کیا جائے گا جنہیں 4ماہ کی ٹریننگ دی جائے گی جب کہ پراسیکیوشن کا ڈی جی کنٹریکٹ بنیادوں بھرتی کیا جائے گا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن بے نامی جائیدادوں کی تحقیقات کرسکے گا، عوام سے دھوکا دہی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے اختیارات بھی اینٹی کرپشن کو حاصل ہوں گے جب کہ اینٹی کرپشن فورس میں نئی بھرتیاں کرکے ڈیوٹیشن عملے کو واپس بھیجا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق ایکٹ کے تحت انویسٹی گیٹر6ماہ میں انکوائری مکمل کریگا، 6ماہ میں انکوائری مکمل نہ ہونے پر ایک سال کا وقت دیاجائے گا اور ایک سال میں انکوائری مکمل نہ ہونے پر بند کردی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ادارہ عدالتوں میں کیسز لڑنے کے لیے اپنے پراسیکیوٹر بھرتی کرے گا، معلومات دینے والے شہری اور اچھی تحقیقات کرنے والے افسران کوانعامات دیے جائیں گے جب کہ غلط کیس بنانے والے اہلکاروں کو 3سے 7سال کی قید ہوگی۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر احتساب خیبرپختونخوا مصدق عباسی نے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین نے مجوزہ قانون کی منظوری دیدی ہے، اب اسکی جلدکابینہ سے منظوری لیں گے۔مصدق عباسی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے وژن کے مطابق کرپشن کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا،نئے قانون کے تحت کرپشن کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔