موبائل فون صارفین سے 338 ارب ایڈوانس ٹیکس وصول 4ماہ میں گیس ساڑھے800فیصد مہنگی قومی اسمبلی میں تفصیلات پیش

 2024 کے دوران صارفین سے ایڈوانس ٹیکس کی مد میں 92ارب وصول کئے گئے‘پانچ سال کے دوران چینی کی قیمت میں ساڑھے53 فیصد اور پام آئل کی قیمت میں 61فیصد اضافہ ہوا

سی پیک کیلئے 24 ارب 70 کروڑ ڈالر مل چکے، رقم سے  43 منصوبے مکمل کئے  جا چکے ہیں، اس وقت 70 کروڑ ڈالر سے زائد  کے8 منصوبے زیر تکمیل ہیں:وزارت خزانہ

     اسلام آباد(آئی این پی ) وفاقی ادارہ شماریات نے صرف چار ماہ میں گیس کی قیمت میں ساڑھے 800 فیصد اضافے کا انکشاف کیا ہے ۔تفصیل کے مطابق ڈپٹی سپیکر غلام مصطفی شاہ کی زیر صدارت قومی اسمبلی اجلاس ہوا جس میں اشیاء  کی قیمتوں میں اضافے کی تفصیلات پیش کردی گئیں۔وفاقی ادارہ شماریات نے  اشیائے خور و نوش کی شرح میں مہنگائی کی تفصیلات ایوان میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران چینی کی قیمت میں ساڑھے53 فیصد اور پام آئل کی قیمت میں 61فیصد اضافہ ہوا۔ ادارہ شماریات کے مطابق سویا بین آئل،گندم اور خام تیل  کی قیمتیں گزشتہ پانچ سال میں 35فیصد بڑھیں۔ حکام نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کو مجموعی مہنگائی کی وجہ قرار دیا۔حکام کے مطابق حکومت نے نومبر 2023میں گیس کے ٹیرف میں 520فیصد جب کہ فروری 2024میں 319فیصد اضافہ کیا۔ اسی طرح نومبر 2023میں بجلی کے نرخوں میں 35 فیصد، فروری 2024میں 75فیصد اضافہ کیا گیا۔وفاقی ادارہ شماریات نے  مزید کہا  بجلی اور گیس قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے مہنگائی میں مجموعی اضافہ ہوا۔فزارت خزانہ نے موبائل فون صارفین سے پانچ سال کے دوران 3 کھرب 38 ارب روپے ٹیکس وصول کرنے کا انکشاف  کیا ہے ۔وزارت خزانہ نے صارفین سے ٹیکس وصولی کی تفصیلات ایوان کے سامنے رکھتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران موبائل صارفین سے 3 کھرب 38 ارب روپے وصول کیے گئے۔دستاویز کے مطابق صارفین سے 2020میں 50ارب، 2021 میں 55 ارب ایڈوانس ٹیکس کی مد میں لیے گئے۔ اسی طرح فون بیلنس پر 2022میں 61ارب اور 2023میں 80ارب ٹیکس وصول کیا گیا جب کہ مالی سال 2024 کے دوران صارفین سے ایڈوانس ٹیکس کی مد میں 92ارب روپے وصول کیے گئے۔وزارت خزانہ نے توقع ظاہر کی کہ مالی سال 2025میں برآمدات 33ارب ڈالر پہنچنے کا امکان ہے جبکہ ترسیلات زر 33ارب50کروڑ ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔حکام کے مطابق آئی ٹی سیکٹر میں مجموعی طور پر ساڑھے 8  ارب ڈالر کا اضافہ متوقع ہے اور رواں مالی سال آئی ٹی برآمدات 4ارب20کروڑ ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ایوان میں سی پیک منصوبوں کے تحت رقوم وصولی کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں جس کے مطابق پاکستان نے چینی حکومت سے سی پیک کی مد میں ساڑھے25ارب ڈالر وصول کیے۔ چین کے تعاون سے 24ارب ڈالر کی لاگت سے 43منصوبے مکمل کرلیے اور 75کروڑ95لاکھ ڈالر کے 8منصوبوں پر کام جاری ہے