قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے انکشاف کیا کہ انہیں سیاسی شخصیت کے خلاف پیش ہونے کے لیے 7 کروڑ روپے فیس کی پیش کش ہوئی تھی جسے انہوں نے ٹھکرا دیا۔
اجلاس میں اپوزیشن کے نکتہ اعتراضات بھی زیر بحث آئے جن میں 26ویں آئینی ترمیم، عدالتوں میں فیسوں میں اضافے، وکلا کے مسائل اور سیاسی قیدیوں کے ساتھ سلوک پر اعتراضات شامل تھے۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مقدمات حکومت سے متعلق نہیں اور سپریم کورٹ عدالتی فیسوں پر فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے اقلیتوں کے کمیشن بل پر بھی وضاحت دی کہ یہ بل توہین رسالت کے قانون سے بالاتر نہیں۔اسد قیصر نے ملٹری کورٹ کے فیصلوں کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا بل جمع کرایا ہے جسے اسپیکر نے اگلے اجلاس میں ایجنڈے پر لانے کی ہدایت کی۔پی ٹی آئی کے ارکان نے اپنے گرفتار ساتھیوں سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج اور ایوان کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی۔
اسپیکر ایاز صادق نے مذاکرات کی پیش کش کی اور اپوزیشن سے بات چیت کا کہا۔اجلاس میں ڈیجیٹل میڈیا پر فحاشی کی روک تھام، وکلا بار کونسل ترمیمی بل اور گارڈین ترمیمی بل 2025ء کو قائمہ کمیٹیوں کو بھیج دیا گیا۔مزید برآں، تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے گیٹ نمبر 1 پر احتجاج کرتے ہوئے 9 مئی کے مقدمات میں سزا پانے والے رہنماؤں کی حمایت کی اور عدالتوں کی آزادی کا مطالبہ کیا۔