اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ مارچ کے وسط سے اب تک غزہ پر ہونے والے کم از کم 36 اسرائیلی فضائی حملوں میں صرف خواتین اور بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کی ترجمان روینہ شمداسانی نے جمعہ کو بتایا کہ 18 مارچ سے 9 اپریل کے دوران غزہ میں رہائشی عمارتوں اور بے گھر افراد کے خیموں پر اسرائیل نے 224 حملے کیے۔
خواتین اور بچوں کی شہادت:
ترجمان نے کہا کہ 36 حملوں کی تصدیق کی گئی ہے جن میں تمام جاں بحق افراد خواتین اور بچے تھے۔ اس انکشاف کے بعد، غزہ میں انسانی بحران کی شدت کو مزید اجاگر کیا گیا ہے، جہاں شہریوں کی زندگیوں کا تحفظ مشکل ہو چکا ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کے بعد کی صورتحال:
غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں مارچ میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے اب تک 1,500 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، خان یونس میں ایک فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد شہید ہوئے جن میں سات بچے بھی شامل تھے۔
غزہ میں انسانی بحران:
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے کہا ہے کہ غزہ میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے امداد کا ایک قطرہ بھی نہیں پہنچا۔ خوراک، ایندھن، دوا سمیت سب کچھ ناپید ہے، اور اب غزہ ایک قتل گاہ بن چکا ہے جہاں عام شہری موت کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں حالات پہلے سے کہیں زیادہ بدتر ہو چکے ہیں۔ فلسطینیوں کو زبردستی چھوٹے علاقوں میں دھکیلا جا رہا ہے، امداد روک دی گئی ہے، اور ان کی زندگیوں کے لیے حالات اتنے ناقابل برداشت ہو چکے ہیں کہ ان کے وجود کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔
اسرائیل کا قبضہ اور بے دخلی:
اسرائیل نے جنگ بندی کے خاتمے کے بعد غزہ کے جنوبی علاقوں میں نئی زمینوں پر قبضے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، اور اسرائیلی فوج مسلسل انخلاء کے احکامات جاری کر رہی ہے۔اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی ایجنسی (اونروا) کے مطابق، 18 مارچ سے اب تک 4 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کیا جا چکا ہے، اور امداد کی رسائی مکمل طور پر بند ہے۔