واشنگٹن: امریکی خلائی ایجنسی ناسا کو مریخ پر زندگی کے نئے اور ٹھوس شواہد ملے ہیں۔
پری سیورینس روور کے ذریعے حاصل کیے گئے چٹان کے نمونے، جو جولائی 2024ء میں مریخ کی قدیم جھیل کے دہانے سے لیے گئے، سائنسدانوں کے لیے زندگی کے ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ناسا کے قائم مقام ایڈمنسٹریٹر شان ڈفی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایک سال کے جائزے کے بعد سائنسدانوں نے چٹان میں تیندوے کی کھال اور خشخاش کے دانوں جیسے نشانات دریافت کیے، جو مریخ پر زندگی کی موجودگی کے مضبوط شواہد ہیں۔
تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر سنجیو گپتا نے کہا کہ یہ مریخ پر زندگی کی براہِ راست دریافت نہیں، لیکن زندگی کی موجودگی کے حوالے سے پہلے سے مضبوط شواہد ہیں۔ ڈاکٹر نکولا فاکس نے مزید بتایا کہ شواہد میں کسی جاندار کی باقیات، اس کا کھایا ہوا کھانا یا فضلہ شامل ہو سکتے ہیں۔