ڈاکٹر جاوید
ہم مقررہ وقت پر لاہور ائیرپورٹ پہنچے ، سامان کی چیکنگ کے بعد چیک ان کیا اور امیگریشن ڈیسک پر پہنچ گئے ، ڈیوٹی پر مامور ایف آئی اے کے ہنس مکھ آفیسر نے تصویر بناء اور پاسپورٹ پر ایگزٹ کی مہر لگا کر کہا چونکہ سر آپ آذربائیجان جا رہے ہیں ، آپ آگے ایف آئی اے عملے سے مل کر لاؤنج میں تشریف لے جائیں ، ہم آگے کھڑے ایف آئی اے کے اہلکاروں سے ملے ، انہوں نے باکو جانے کی وجہ پوچھی ، ہم نے بتایا کہ امراض چشم کی عالمی کانفرنس میں شرکت کے لئے جا رہے ہیں ، اہلکار نے پاسپورٹ کی اپنے موبائل سے تصویر بنائی ، پاسپورٹ اور ویزہ کی فوٹو کاپی کی۔
میں نے اہلکار سے پوچھا ، ڈئیر یہ ناچیز تیسری مرتبہ باکو چلا ہے لیکن ایسا پہلی بار ہو رہا ہے ، اہلکار نے کہا ، دراصل پاکستانی آذربائیجان سے ڈنکی لگا کر بذریعہ سمندر یورپ نکل جاتے ہیں ، ابھی کچھ دن پہلے انسانی سمگلر سیکڑوں پاکستانیوں کو آذربائیجان سے آگے لے جا رہے تھے ، ان کی کشتی الٹ گئی چنانچہ حکومت نے سختی کر دی ہے ، اب جیوین لوگوں کو ہی باکو جانے دیا جائے گا۔
ہم سن کر دم بخود رہ گئے ( پوری دنیا میں واحد آذربائیجان ایک ملک بچا ہے جو ہمیں چار دن کے بعد ای ویزا جاری کر دیتا ہے ، لگتا ہے ، یہ آسان ترین ویزا بھی ہمارے کرتوتوں کی وجہ سے دبئی کی طرح بند کر دیا جائے گا )
ہم ایف آئی اے والوں کی باز پرس کے بعد سی آئی پی لاؤنج میں آ گئے ، آدھا گھنٹہ تاخیر سے جہاز روانگی کے لئے تیار تھا پھر معلوم ہوا ، ایک خاتون مسافر کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے ، اسے آف لوڈ کر دیا گیا ہے ، اسی تگ و دو میں جہاز ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے دبئی پہنچا ، وہاں پہنچ کر پتہ چلا ، ہم اگلی فلائٹ نہیں پکڑ سکتے ہیں ، ہمیں دبئی کا ٹرانزٹ ویزا جاری کیا جائے گا تاکہ شام 6 بجے فلائٹ کے ٹائم سے پہلے شہر کے ہوٹل میں قیام کر سکیں۔
دبئی ائیرپورٹ پر کوئی تین گھنٹے انتظار کی سولی پر لٹکنے کے بعد عملے نے بتایا ، آپ کے پاس تو پہلے ہی دبئی کا ویزا ہے ، میں نے کہا ، یہی بات آتے ہی بتا دیتے مگر دبئی ائیرپورٹ کے عملے کا ہتک آمیز رویہ بھلا کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے۔
خیر رات ساڑھے دس بجے باکو لینڈ کرتے ہی جیسے ساری تھکاوٹ دور ہو گئی، وہ کہتے ہیں ، ناں ، نئی ریساں شہر لاہور دیاں ، اسی طرح باکو کی صاف ستھری سڑکیں ، گلی ، محلے ، خوبصورت شوز ، لباس میں ملبوس سلجھے ہوئے تمیزدار شہری ، نہ دھواں ، نہ ہارن ، نہ بے ہنگم ٹریفک ، خوشگوار فضا و موسم ، کیمیکل و کھادوں سے مبرا سبزیاں ، پھل ، بکرے کا گوشت اور ریستورانوں میں کھانا پیش کرنے کی ترتیب ، ڈنر کے آخر میں مختلف قسم کے مربوں ، چاکلیٹس ، چینی اور گڑ کے کیوب کے ساتھ بغیر دودھ کے قہوہ نما چائے پیتے ہوئے طویل گپ شپ کے ذریعے اضطرابی کیفیت کا خاتمہ ایسی روایات شاید ہی کسی اور شہر میں میسر ہوں جبھی تو باکو کے ہر شہری کے چہرے پر ہماری طرح ڈیپریشن کے نمایاں
آثار نظر نہیں آتے ہیں ، وہاں ہر شخص مرد و عورت کے چہرے کھلے کھلے اور ترو تازہ دیکھائی دیتے ہیں۔
ان کو دیکھ کر دل کہتا ہے۔
کاش! ہمیں بھی تمیز سکھانے والے مل جاتے۔
ہم اگلی صبح ناشتہ کر کے جاپان اور فلپائن سے آنے والے ڈاکٹروں کو ائیرپورٹ سے ریسیو کرنے چلے گئے۔
مہمانوں کو ہوٹل روانہ کرنے کے بعد اپنے دیرینہ دوست گلفام اور شہزاد آف مرید کے و گوجرانوالہ جن کا پک ان ڈراپ اور ٹوررزم کا باکو میں اچھا کام ہے ، ان کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے شہر سے باہر مضافات چلے گئے ، جامع مسجد نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی ، امام صاحب نے لوکل و عربی زبان میں خطبہ دیا ، نماز کے بعد دوستوں نے ہمیں ہوٹل چھوڑ دیا۔
رات کو ہم امریکہ ، جاپان ، ترکی ، فلپائن ، پولینڈ و یروشلم سے آئے ڈاکٹروں کے ساتھ آذربائیجان کے واحد پردہ بصارت کے سرجن جناب پروفیسر ترال گلبینر کے وسیع و عریض گھر میں پرتکلف عشائیہ پر مدعو تھے ، کھانے پر مختلف امور پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔
اگلی صبح آٹھ بجے ہم باکو ریٹینا کانفرنس کے ہاؤس فل ہال میں تھے۔
کانفرنس کا وینیو 8 نومبر کو آذربائیجان کے یوم فتح پر ہونے والی تقریب کی جگہ سے چند قدم دور تھا جس میں وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل نے شرکت کی۔
خیر بات چل رہی تھی۔
باکو ریٹینا اس ریجن میں اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس تھی ، شرکاء کانفرنس کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔
کانفرنس کے بہترین انتظامات ، سپر سٹف ، سائنٹفک سیشن میں پڑھے جانے والے مقالہ جات اپنی مثال آپ تھے بالخصوص یروشلم سے آئے پروفیسر آلیان کی جانوروں پر کی گئی جدید ریسرچ اور اس تحقیق کے نتیجے میں انسانی نور کے پردے کو فائدہ پہنچانے والے علم کو جان کر عقل دنگ رہ گئی۔
دوران کانفرنس لوکل زبان کے انگریزی میں ترجمے کے لئے ھیڈ فون کی سہولت مہیا کی گئی تھی اور پھر کانفرنس کے وقفہ برائے ٹی و لنچ کے کیا کہنے اور ساتھ ہی میڈیا کا تڑکا لگانے کے لئے بہت سے نیوز چینل کوریج کے لئے آئے ہوئے تھے۔
مجھے کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں سکول کے چھوٹے بچوں کا آذربائیجان کا قومی ترانہ پڑھنا دل کو بھا گیا ، مجھے پروفیسر ترال کا آئیڈیا بیحد پسند آیا ،
میں نے اس وقت دل میں سوچا ، اگر اللہ نے موقع دیا ، ہم لاہور آفتھلمو میں اس کی کاپی ضرور کریں گے۔
امراض چشم کی اس عالمی کانفرنس میں سب ڈاکٹروں کا صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک کانفرنس ہال میں انہماک سے بیٹھ کر لیکچر سننا ایک بہترین عمل تھا۔
کانفرنس کے منتظم اعلی جناب پروفیسر ترال گلبینر آف آذربائیجان نے افتتاحی و اختتامی تقریب میں کانفرنس کے نائب منتظم اعلی ، شان
پاکستان جناب پروفیسر حسین احمد خاقان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ، قابل قدر پروفیسر خاقان کے تعاون ، حوصلہ افزائی اور رہنمائی کی بدولت باکو کی تاریخ میں پہلی کامیاب کانفرنس کو ممکن بنایا جا سکا ہے۔
پروفیسر ترال نے خوشخبری بھی سنائی کہ ان شا ء اللہ 2027ء باکو میں دوسری عالمی کانفرنس کو چار چاند لگانے کے لئے بڑے پیمانے پر فارن سپیکرز سمیت لوکل و ریجینل آئی سرجنز کو مدعو کیا جائے گا۔
مجھے کانفرنس کی اختتامی تقریب کے بعد ٹرینی ڈاکٹروں ، جونئیرز و سینئرز آء سرجنز کا بیرون دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وی آر کنگ جناب پروفیسر خاقان کے ساتھ فوٹو بنوانا ، ان کے کام کی تعریف کرنا بطور پاکستانی بہت ہی اچھا لگا-
میں نے اپنے آل ٹائم فیورٹ پروفیسر خاقان سے کہا۔شکر ہے ، سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کے لئے کوئی تو کام کر رہا ہے ورنہ تو اپنے ہاں جگہ جگہ پورا بیل حلال کر کے آدھا پاؤ گوشت کھانے والا ذاتی مفاد کا غلام ہی ملتا ہے ، ایسا شاہکار جس کی چودھراہٹ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی ہے ، اس کو ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہوتی کہ کل کلاں لوگ کیا کہیں گے۔عجیب لیچڑ شخص تھا۔جان ہی نہیں چھوڑتا تھا۔