جان ہے تو جہان ہے

محمد فاروق سپرا
، "جان ہے تو جہان ہے"،  یہ بظاہر ایک مقولہ ہے مگر یہ زندگی کی ایک اٹل حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ اگر انسان کے پاس صحت ہے تو یہ دنیا اس کے لیے تمام تر رعنائیوں اور امکانات کے ساتھ موجود ہے۔ دولت، عزت اور شہرت اس وقت بامعنی لگتی ہیں جب انسان تندرست و توانا ہو۔ اگر صحت ہی نہ رہے تو سونے چاندی کے ڈھیر بھی بے سود اور بے قیمت ہو جاتے ہیں۔ ایک بیمار شخص کے لیے دنیا کی تمام آسائشیں اور خوشیاں ماند پڑ جاتی ہیں۔ صحت درحقیقت انسان کے لیے سب سے بڑی دولت ہے، ایک ایسا قیمتی سرمایہ ہے جس کے بغیر زندگی ادھوری اور بے کیف ہے۔
تاریخ کے اوراق ایسی بے شمار مثالیں سے بھرے پڑے ہیں جہاں دولت کے انبار رکھنے والے افراد صحت کی کمی کی وجہ سے اپنی زندگیوں سے بیزار نظر آتے ہیں۔ مشہور صنعتکار اسٹیو جابز نے اپنی آخری ایام میں کہا تھا: "میں نے دولت کے سمندر کو پار کیا، مگر صحت کے بغیر یہ سب بے معنی ہے۔
مشہور فارسی مقولہ ہے: "تن سالم ہزار نعمت است" (تندرست بدن ہزار نعمتوں کے برابر ہے)۔
شعراء￿  نے مختلف انداز میں صحت کی قدر و قیمت کو اجاگر کیا ہے۔ایک شعرمیں کہاگیا 
 تندرستی ہزار نعمت ہے
 گر نہ ہو تو سب عبث ہے
اس شعر میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ تندرستی ایک ہزار نعمتوں کے برابر ہے۔ اگر یہ نعمت چھن جائے تو باقی تمام چیزیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔
ایک اورشاعرنے کیاخوب کہاہے 
 عیش و عشرت بھی روگ بن جائے
 گر طبیعت ذرا سی ناساز ہو
یعنی اگر طبیعت ذرا سی بھی بگڑ جائے تو تمام عیش و آرام بھی بیماری کا سبب بن جاتے ہیں۔ اس شعر سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحت کی موجودگی میں ہی زندگی کی حقیقی لذتیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔
شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا تھا:
"قوتِ زیست کا راز ہے بدن کی صحت، جو اس راز کو جان گیا، وہی مقصدِ حیات پا گیا۔"
درحقیقت، صحت ہی وہ بنیاد ہے جس پر دولت، عزت، اور شہرت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اگر یہ بنیاد ہی کمزور ہو تو زندگی کا ہر شاندار محل خاک کے ذروں کی طرح بکھر جاتا ہے۔ طبّی اور ادبی دونوں حوالے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ صحت کے بغیر انسان کا وجود نامکمل ہے۔
مرزا غالب نے اپنے انداز میں کہا:
دل کی تسلی کے لیے گھر میں مِرے حکیم ہو      طبیبِ جاں ہو کہ میری جاں ہی سہی
یہاں "طبیبِ جاں" سے مراد وہ صحت ہے جو روح اور جسم دونوں کو سنبھالتی ہے۔ اسی طرح، فیض احمد فیض نے صحت کی اہمیت کو اس طرح بیان کیا:
"روٹی، کپڑا، مکان بھی ضرور ہیں مگر، سب سے پہلے تندرستی کا تحفہ مانگ لو۔"
صوفی شعراء￿  نے بھی صحت کو روحانی ترقی کے لیے ایک اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔ ایک صحت مند جسم ہی عبادت و ریاضت کے لیے موزوں ہوتا ہے۔ کمزور اور بیمار جسم روحانی منازل طے کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔
طب کی دنیا میں صحت کو صرف بیماریوں سے پاک ہونا ہی نہیں سمجھا جاتا، بلکہ یہ جسمانی، ذہنی اور سماجی طور پر مکمل طور پر تندرست ہونے کی کیفیت ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او) کے مطابق، "صحت مکمل جسمانی، ذہنی اور سماجی بہبود کی کیفیت ہے اور محض بیماری یا کمزوری کا نہ ہونا نہیں۔"
ایک صحت مند جسم تمام افعال کو بخوبی انجام دیتا ہے۔ دل، دماغ، پھیپھڑے، گردے اور دیگر اعضاء￿  اپنا کام موثر طریقے سے کرتے ہیں۔ قوت مدافعت مضبوط ہوتی ہے جو بیماریوں سے لڑنے میں مدد دیتی ہے۔ جسمانی صحت انسان کو فعال اور متحرک رکھتی ہے جس سے وہ اپنی روزمرہ کی زندگی کے کاموں کو آسانی سے سرانجام دے سکتا ہے۔
ذہنی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے۔ ایک صحت مند ذہن مثبت سوچ رکھتا ہے، تناؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جذباتی طور پر مستحکم ہوتا ہے۔ ذہنی سکون اور اطمینان زندگی کے معیار کو بلند کرتے ہیں۔
سماجی صحت کا مطلب ہے کہ انسان اپنے اردگرد کے لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھے، معاشرے میں اپنا فعال کردار ادا کرے اور تنہائی سے محفوظ رہے۔ سماجی طور پر صحت مند انسان خوشحال زندگی گزارتا ہے۔

اگر صحت نہ ہو تو انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ جسمانی بیماریاں تکلیف، کمزوری اور معذوری کا باعث بنتی ہیں۔ ذہنی بیماریاں انسان کی سوچنے، سمجھنے اور برتاؤ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں۔ ان تمام صورتوں میں انسان اپنی زندگی کے عام کام بھی کرنے کے قابل نہیں رہتا اور دوسروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق، "صحت صرف بیماری کی عدم موجودگی نہیں، بلکہ جسمانی، ذہنی، اور سماجی طور پر مکمل تندرستی کا نام ہے۔" اس تعریف سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحت کا دائرہ صرف جسم تک محدود نہیں، بلکہ ذہنی سکون اور معاشرتی توازن بھی اس کا حصہ ہیں۔ مثال کے طور پر، 2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں 80فیصد سے زائد امراض کا تعلق براہِ راست طرزِ زندگی سے ہے، جیسے کہ غیر متحرک رہنا، فاسٹ فوڈ کا استعمال، اور تناؤ۔
طبّی علوم اس بات کو سائنسی طور پر ثابت کرتے ہیں کہ صحت مند جسم ہی انسان کو فعال اور متحرک رکھتا ہے۔ ہِپپوکریٹس، جو طب کے بابا آدم سمجھے جاتے ہیں، کا قول ہے: "خوراک ہی دوا ہے، اور دوا ہی خوراک۔" یہ بات آج کے دور میں بھی اپنی اصل میں قائم ہے جب کہ جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ متوازن غذا اور ورزش امراضِ قلب، ذیابیطس، اور موٹاپے جیسے عوارض سے بچاتی ہے۔
جدید طبی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ بہت سی بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند اور تناؤ سے دوری اختیار کر کے ہم اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ صحت مند طرز زندگی نہ صرف بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ عمر میں بھی اضافہ کرتا ہے۔
صحت انسان کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔ یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور معاشی مسئلہ بھی ہے۔ ایک صحت مند معاشرہ زیادہ فعال اور پیداواری ہوتا ہے۔ بیمار افراد نہ صرف خود تکلیف اٹھاتے ہیں بلکہ معیشت پر بھی بوجھ بنتے ہیں۔ علاج معالجے پر اٹھنے والے اخراجات اور کام کے دنوں کا ضیاع ملکی ترقی میں رکاوٹ بنتا ہے۔
انفرادی سطح پر بھی صحت کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ایک صحت مند انسان اپنے خوابوں کو پورا کرنے، اپنے اہداف حاصل کرنے اور زندگی سے بھرپور لطف اندوز ہونے کے قابل ہوتا ہے۔ وہ اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے ایک فعال اور مفید فرد ثابت ہوتا ہے۔
 صحت انسان کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔ یہ زندگی کی بنیاد ہے اور اس کے بغیر تمام تر مادی آسائشیں بے معنی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں، صحت مند طرز زندگی اپنائیں اور اس عظیم نعمت کی قدر کریں۔ کیونکہ سچ ہی تو ہے کہ جان ہے تو جہان ہے۔