راولاکوٹ میں احتجاج تھا یا طاقت کا تصادم

سردار حیدر احمد علی
راولاکوٹ کے پہاڑ صدیوں سے خاموش تماشائی ہیں۔ انہوں نے جنگیں بھی دیکھی ہیں، سیاسی تحریکیں بھی، اور عوامی احتجاج بھی۔ مگر بعض دن ایسے ہوتے ہیں جب خاموش وادیاں بھی بے چین محسوس ہوتی ہیں۔ گزشتہ چند روز میں راولاکوٹ نے ایسے ہی مناظر دیکھے جنہوں نے نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پورے پاکستان کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔

ایک طرف ریاستی ادارے ہیں جو قانون اور امن و امان کے قیام کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف ایک عوامی تحریک ہے جو اپنے مطالبات اور موقف کو عوامی طاقت کے ذریعے منوانا چاہتی ہے۔ جب یہ دونوں قوتیں مکالمے کے بجائے تصادم کے راستے پر چل پڑیں تو نقصان صرف فریقین کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہوتا ہے۔اتوار کے روز راولاکوٹ میں پیش آنے والے واقعات نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر پولیس کے مطابق کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی  سے وابستہ مسلح افراد نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر منظم حملہ کیا جس کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ پولیس کا یہ بھی مؤقف ہے کہ مشتعل عناصر نے سی ایم ایچ راولاکوٹ کا محاصرہ کیا، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا اور مختلف مقامات پر آگ لگائی۔دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور اس کے حامی اس سرکاری مؤقف سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ احتجاجی دھرنے کے دوران سکیورٹی فورسز نے طاقت کا استعمال کیا، آنسو گیس پھینکی گئی اور ہسپتال کے اطراف شیلنگ کی گئی جس کے بعد حالات بگڑ گئے۔حقیقت کیا ہے؟ شاید اس کا حتمی جواب آزاد اور غیر جانبدار تحقیقات ہی دے سکتی ہیں۔ لیکن اس وقت اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پہلا پتھر کس نے پھینکا اور پہلی گولی کس نے چلائی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ معاملات اس نہج تک پہنچے کیوں؟یہ سوال صرف راولاکوٹ کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا سوال ہے۔دنیا کی تمام جمہوریتوں میں احتجاج ایک سیاسی حق سمجھا جاتا ہے، لیکن ریاست کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے کہ امن و امان برقرار رکھے۔ جب احتجاج اور ریاست کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہو جائے تو پھر سڑکیں مذاکرات کی جگہ لے لیتی ہیں اور نعرے مکالمے کی جگہ۔راولاکوٹ کے حالیہ واقعات اسی المیے کی عکاسی کرتے ہیں۔یہ خطہ ہمیشہ سیاسی شعور کا مرکز رہا ہے۔ یہاں کے لوگ جذباتی ضرور ہیں مگر سیاسی طور پر بالغ بھی ہیں۔ وہ اختلاف رکھتے ہیں لیکن اپنے علاقے کے امن اور وقار کو بھی عزیز جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ کشیدگی نے عام شہری کو سب سے زیادہ پریشان کیا ہے۔بازار بند ہیں، کاروبار متاثر ہوا ہے، تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور سب سے بڑھ کر خوف کی ایک فضا نے جنم لیا ہے۔ ایسی صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان اس عام آدمی کا ہوتا ہے جو نہ حکمران ہے اور نہ احتجاجی رہنما، بلکہ صرف اپنے روزگار اور خاندان کی فکر میں مبتلا ایک شہری ہے۔تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت وقتی کامیابی تو حاصل کر سکتی ہے لیکن پائیدار حل نہیں دے سکتی۔ ریاست کی طاقت ضروری ہے، مگر ریاست کی دانائی اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ اسی طرح عوامی تحریکیں معاشروں میں تبدیلی کا ذریعہ بنتی ہیں، لیکن جب ان کے اندر نظم و ضبط اور سیاسی حکمت کمزور پڑ جائے تو وہ خود اپنے مقصد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔راولاکوٹ کے حالیہ واقعات میں سب سے زیادہ ضرورت تحمل، برداشت اور حقیقت پسندانہ سوچ کی ہے۔ اگر ریاست صرف طاقت کے ذریعے جواب دے گی تو فاصلے بڑھیں گے۔ اگر احتجاجی قیادت صرف جذباتی بیانیے پر انحصار کرے گی تو تصادم کا خطرہ برقرار رہے گا۔اس وقت ضرورت کسی فتح یا شکست کے اعلان کی نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی کی ہے۔آزاد کشمیر کی سیاست پہلے ہی کئی چیلنجز سے دوچار ہے۔ نوجوان روزگار چاہتے ہیں، عوام بہتر سہولیات چاہتے ہیں اور معاشی مشکلات روز بروز بڑھ رہی ہیں۔ ایسے میں سیاسی عدم استحکام اور تصادم کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔راولاکوٹ کے پہاڑ آج بھی خاموش ہیں، مگر ان کی خاموشی میں ایک پیغام پوشیدہ ہے۔ وہ پیغام یہ ہے کہ طاقتور وہ نہیں جو مخالف کو خاموش کرا دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو اختلاف کو سن سکے۔کل جب تاریخ ان دنوں کا جائزہ لے گی تو شاید وہ یہ نہیں پوچھے گی کہ کون جیتا اور کون ہارا۔ وہ یہ پوچھے گی کہ جب حالات بگڑ رہے تھے تو دانشمندی کا مظاہرہ کس نے کیا؟ مکالمے کا دروازہ کس نے کھلا رکھا؟ اور عوام کے مفاد کو اپنی سیاسی ترجیحات پر کس نے ترجیح دی؟کیونکہ آخرکار ریاستیں طاقت سے نہیں، اعتماد سے چلتی ہیں۔ اور اعتماد کی بنیاد ہمیشہ انصاف، شفافیت اور مکالمے پر قائم ہوتی ہے۔راولاکوٹ آج ایک واقعہ نہیں، ایک امتحان ہے۔ اس امتحان میں کامیابی صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام فریق جذبات کے بجائے تدبر کا راستہ اختیار کریں۔ کیونکہ جب سیاست تصادم میں بدل جائے تو کوئی فریق حقیقی معنوں میں فاتح نہیں رہتا