امریکی اسٹیبلشمنٹ نے ٹرمپ سے نمٹنے کیلئے تیاری شروع کردی

افسر جائزہ لے رہے ہیں پینٹاگون سے عملے کی بڑے پیمانے پر برطرفی کا حکم دیا گیا تو کیا ردعمل دینا ہوگا
واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی اسٹیبلشمنٹ نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان احکامات سے متعلق حکمت عملی ترتیب دینے کیلیے سر جوڑ کر بیٹھ گئی جنہیں اسٹیبلشمنٹ متنازع سمجھتی ہو۔سی این این کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ٹرمپ نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ اگر وہ صدر منتخب ہوگئے تو اپنے پچھلی حکومت کے ایگزیکٹو آرڈر کو دوبارہ جاری کریں گے اور بدمعاش بیوروکریٹس کی چھٹی کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ قومی سلامتی اور انٹیلی جنس اداروں سے بھی تمام بدعنوان عناصر کا صفایا کریں گے جو بڑی تعداد میں وہاں موجود ہیں‘امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے افسر اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں فوج تعینات کرنے اور پنٹاگون سے عملے کی بڑی پیمانے پر برطرفی کا حکم دیا تو پھر کیا ردعمل دینا ہوگا۔سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے پنٹاگون کے ایک افسر نے کہا ہم کسی بھی بدترین صورتحال سے نمٹنے کی تیاری کررہے ہیں تاہم فی الحال ہمیں نہیں معلوم کہ کیا معاملات پیش آسکتے ہیں، آئین کے تحت تو فوجی کسی بھی غیرقانونی حکم کو ماننے سے انکار کرسکتے ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا فوجی افسا اپنے جوانوں کا ساتھ دینے کے لیے استعفے دیں گے یا پھر انہیں تنہا چھوڑ دیں گے۔