خواجہ خالد آفتاب
10 مئی 2025ء کو جنوبی ایشیا کی عسکری تاریخ میں ایک ایسے دن کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے جس نے ایک طرف خطے کی طاقت ، حکمتِ عملی اور دفاعی توازن کے بارے میں کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے تو دوسری جانب اس خطے میں بسنے والے ڈیڑھ ارب افراد کی سوچ کا دھارا بدل کر رکھ دیا۔ پاکستان میں اس دن کو ‘‘یومِ معرکہ حق’’ کے طور پر منایا جا رہا ہے، جبکہ بھارت کے لیے یہ دن عسکری دباؤ، سفارتی مشکلات اور بھاری مالی و جنگی نقصان کے ساتھ ساتھ شرمندگی کی علامت بن گیا۔ جنگی جنون میں مبتلا مودی اور طاقت کے نشے میں دھت بھارتی سورماؤں نے پاکستانی قوم پر ایک بار پھر رات کے اندھیرے میں جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وطن عزیز کے پانچ شہروں پر میزائل داغ دیے ، جس کے جواب میں افواجِ پاکستان نے بزدل اور سازشی دشمن کو سبق سکھایا کہ جو اسے رہتی دنیا تک یاد رہے گا ، اس معرکے میں بھارتی فضائیہ کو غیر معمولی نقصان اٹھانا پڑا اور اس کی جدید جنگی ٹیکنالوجی راکھ بن کر سندور کی جگہ مودی حکومت کی مانگ میں ایسے سجی کہ اس کی آئندہ نسلیں سندور کا رنگ بھی بھول جائیں گی ، اس معرکہ حق کے دوران پاک فوج نے بھارت کے قیمتی جنگی طیارے گرا کر اسے دھول چٹا دی ، جن میں جدید فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے مجموعی طور پر آٹھ جنگی طیارے مار گرائے، جن میں چار رافیل، ایک مگ 29، ایک سخوئی 30 اور دیگر طیارے شامل تھے۔ بھارت نے یہ رافیل طیارے فرانس سے اربوں ڈالر کی لاگت سے خریدے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق عالمی مارکیٹ میں ایک رافیل طیارے کی قیمت 100 سے 120 ملین امریکی ڈالر تک بنتی ہے۔ ان تباہ ہونے والے چار رافیل طیاروں کا نقصان ہی اربوں روپے بنتا ہے۔ اس کے علاوہ جنگی سازوسامان، میزائل سسٹمز، ایندھن، لاجسٹکس، فضائی آپریشنز اور سرحدی نقل و حرکت پر اٹھنے والے اخراجات الگ تھے۔ اس معرکے میں بھارت کو صرف عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی اور سفارتی محاذ پر بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا جس پر بھارتی جنتا نے "موذی سرکار" کی خوب اینٹ سے اینٹ بجائی ، جدید ٹیکنالوجی، بھاری دفاعی بجٹ اور بین الاقوامی حمایت کے باوجود اپنے سے پانچ گنا چھوٹے ملک سے جنگ میں بری طرح پٹنے پر تو اس کی عسکری حکمتِ عملی پر کئی سوالیہ نشان لگ گئے۔ عالمی میڈیا میں اس جنگ کے بعد یہ سوال بھی اٹھا کہ کیا جنوبی ایشیا میں طاقت کے زور پر سیاسی مقاصد حاصل کرنا ممکن ہے؟
اس معرکہ حق کے دوران بھارت کو سرحدی تنصیبات، دفاعی ڈھانچے اور نگرانی کے نظام کی تباہی کی وجہ سے بھی بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑے۔ یہ بات وقت نے ثابت کر دی کہ جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی بلکہ اس کے اثرات سیاست ، سماج اور معیشت پر بھی برسوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ خود بھارت کی جانب سے پیدا کردہ جنگی ماحول نے اس کی سرمایہ کاری کو بری طرح متاثر کیا ، اسٹاک مارکیٹ دباؤ کا شکار ہوئی ، غیر ملکی سرمایہ کار بھاگتے پر مجبور ہو گئے اور "موذی سرکار" عوام کا اعتماد بھی کھو بیٹھی۔ حکومتی وسائل ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہونے کے بجائے جنگی جنون کی نذر ہو گئے۔
اس تمام صورتحال میں پاکستان کے لیے سب سے اہم سبق قومی اتحاد اور بیداری تھا ۔کیونکہ دشمن صرف سرحدوں پر ہی حملہ نہیں کرتا بلکہ
اندرونی انتشار، جھوٹے پروپیگنڈے، میڈیا وار اور سیاسی تقسیم کے ذریعے بھی ریاستوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بھارت پر ماضی میں کئی بار پاکستان کے اندر بدامنی پھیلانے اور مختلف تخریبی نیٹ ورکس کی سرپرستی ثابت بھی ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو ہر قسم کی سازش، خفیہ کارروائی اور پراکسی وار پر مسلسل اور کڑی نظر رکھنی ہوگی۔
‘‘معرکہ حق’’ کا اصل پیغام یہی ہے کہ مضبوط قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اتحاد، نظم و ضبط، قومی شعور اور مضبوط معیشت سے کامیاب ہوتی ہیں۔ اگر قوم اندرونی اختلافات میں الجھ جائے تو دشمن کو سازشوں کا موقع مل جاتا ہے۔ اس لیے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں، میڈیا، مذہبی قیادت اور ریاستی ادارے قومی مفاد پر متحد ہوں۔
حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ تمام سیاسی قوتوں کو متحد کرے ، بلاشبہ 10 مئی کا دن پاکستان کے لیے حوصلے، قربانی اور دفاعی عزم کی علامت ہے۔ یہ دن اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ پاکستان اپنی آزادی، خودمختاری اور سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گا۔ لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی ضروری ہے کہ جنگ ہمیشہ تباہی لاتی ہے۔ جنوبی ایشیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد عوام امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں، اس لیے خطے کے تمام ممالک بالخصوص بھارت کو تصادم کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
پاکستانی قوم نے اس معرکے میں جس اتحاد، حوصلے اور ملی بیداری کا مظاہرہ کیا، درحقیقت وہی ملک کی اصل طاقت ہے۔ اگر سیاسی اور عسکری قیادت باہمی اعتماد کے ساتھ ہر سازش پر نظر رکھے اور قومی مفاد پر متحد رہے تو کوئی دشمن پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ یہی ‘‘معرکہ حق’’ کا پیغام ہے۔ #