اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے بعد جنگ بندی پر عالمی رہنماؤں اور دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، یو اے ای کے صدر محمد بن زاید، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی، ترک صدر رجب طیب اردوان، اور دیگر عالمی رہنماؤں نے جنگ بندی کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، قطر، برطانیہ اور دیگر دوست ممالک نے پاکستان کی حوصلہ افزائی کی، ہماری قیادت پر اعتماد کیا، اور ہر موقع پر ساتھ دیا۔ انہوں نے خاص طور پر چین کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "اگر میں چین کا شکریہ ادا نہ کروں تو میری آج کی تقریر نامکمل رہے گی۔ چین نے پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں ہر مشکل وقت میں ہماری غیر مشروط حمایت کی ہے۔"انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر جنگ بندی کی کوششوں کا مثبت جواب دیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ جموں و کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کے لیے پرامن مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے۔اپنے خطاب میں وزیراعظم نے پاکستانی قوم، افواج پاکستان، اور قومی قیادت کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم نے یکجہتی، دلیری اور وقار کا مظاہرہ کیا۔
"اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہوکر لڑتے ہیں۔ میں غیور پاکستانیوں کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں۔ ہم نے دنیا پر ثابت کیا کہ پاکستانی ایک خودار اور متحد قوم ہے۔"انہوں نے واضح کیا کہ بھارت نے حالیہ دنوں میں کھلی جارحیت کا مظاہرہ کیا، جس کا پیشہ ورانہ اور بھرپور جواب پاک فوج نے دے کر عسکری تاریخ میں سنہری باب رقم کیا۔ وزیراعظم نے کہا: "بھارت نے بلاجواز جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی، ہم نے نہ صرف صبر کا مظاہرہ کیا بلکہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش بھی کی۔ مگر جب دشمن نے سرحدی خلاف ورزی کی تو ہم نے فیصلہ کیا کہ اسے اسی زبان میں جواب دیا جائے جو وہ سمجھتا ہے۔"وزیراعظم نے خطاب کا اختتام قومی یکجہتی، خودمختاری کے دفاع اور پرامن مستقبل کے عزم کے ساتھ کیا، اور کہا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے، مگر اپنی سالمیت اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔