اسلام، سلامتی اور قومی سکیورٹی جیسے معاملات پر احتیاط ضروری ، پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات پر غیر ذمہ دارانہ تبصرے مناسب نہیں، زیادتی تب ہوتی ہے جب ریڈ لائنز عبور ہوتی ہیں
ویوز کیلئے ممالک کے تعلقات پر منفی وی لاگز بنانا اور سنسنی پھیلانا ملک کی خدمت نہیںپاکستان ایران،امریکہ تنازعہ میں بھرپور کردار ادا کر رہاہے: عطا اللہ تارڑ، اعظم نذیر تارڑ ‘ طلال چودھری کی پریس کانفرنس
اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی و زرا نے کہا ہے آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے تاہم اس آزادی پر قانون کے تحت کچھ پابندیاں بھی ہیں اور اسلام، سلامتی اور قومی سیکیورٹی جیسے معاملات پر احتیاط ضروری ہے، پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات پر غیر ذمہ دارانہ تبصرے مناسب نہیں اور اگر کوئی ریڈ لائن کراس کرے گا تو کارروائی کی جائے گی،حکومت کی پالیسی بہت فیئر رہی ہے،زیادتی تب ہوتی ہے جب ریڈ لائنز عبور ہوتی ہیں،شہری ریاست پر اعتمادکریں،پاکستان ایران،امریکا تنازعہ میں بھرپور کردار ادا کر رہاہے۔ ان خیالات کااظہار وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔وزیر اطلاعات عطاتارڑ نے کہا کہ خطے کے ممالک کے ساتھ پاکستان کے قریبی اور دوستانہ تعلقات ہیں جبکہ خارجہ پالیسی سے متعلق سوشل میڈیا پر غیر ضروری تبصرے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ویوز کے حصول کے لیے دو ممالک کے تعلقات پر منفی وی لاگز بنانا اور سنسنی پھیلانا ملک کی خدمت نہیں اور ایسے رویے پاکستان کے عالمی مقام کو متاثر کر سکتے ہیں۔ زیادہ ویوز لینے کے چکر میں بھیڑ چال چلی جا رہی ہے، مسلم ممالک سمجھتے ہیں شاید یہ ریاست کی پالیسی ہے، خارجہ پالیسی کو مقامی سیاست کی نذر نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ میرا حلف اور آئین مجھے دفتر خارجہ کے مقف کے مطابق بات کرنے کا پابند بناتا ہے جبکہ ذاتی پسند، ناپسند یا سیاسی ایجنڈے کی بنیاد پر تبصرہ مناسب نہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دیگر ممالک میں ہماری میڈیا پر کی گئی بات کو ریاستی پالیسی سمجھا جاتا ہے، اس لیے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر تبصرے میں احتیاط ضروری ہے، تاہم مقامی سیاست پر تنقید کی گنجائش موجود ہے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے اہم ملک ہے اور پاکستان نے موجودہ صورتحال میں سفارتی حل کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کا اپنے دفاع اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے واضح مقف ہے، موجودہ صورتحال کے باعث پوری دنیا گہری تشویش میں مبتلا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پارلیمان کو بھی اس جنگ کے حوالے سے آگاہ کیا گیا اور وزیراعظم نے سپریم کورٹ لیڈر کی شہادت پر بیان بھی جاری کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار نیوکلیئر ریاست ہے اور دفاعی و خارجہ پالیسی پر اس کا واضح موقف ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے تاہم اس آزادی پر قانون کے تحت کچھ پابندیاں بھی ہیں اور اسلام، سلامتی اور قومی سیکیورٹی جیسے معاملات پر احتیاط ضروری ہے۔خطے میں صورتحال کشیدہ ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی سے متعلق بحث سے اجتناب کیا جائے۔