"بجٹ بہتر ہے مگر ناکافی، مزید اصلاحات کی ضرورت ہے: میاں ابوذر شاد"

یہاں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کی جانب سے وفاقی بجٹ 2025-26 پر ملے جلے ردِعمل کی مکمل تفصیل پیش کی جا رہی ہے:

  لاہور چیمبر کا بجٹ پر ردِ عمل: "بہتر، مگر ناکافی"
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں ابوذر شاد نے وفاقی بجٹ 2025-26 پر ابتدائی ردِعمل میں کہا کہ:"بجٹ بہتر ہے، لیکن اس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔"
  بجٹ کے مثبت پہلو:
فوجی بجٹ میں اضافہ کو "قابل ستائش" قرار دیا۔تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس میں کمی اور سپر ٹیکس میں نرمی جیسے اقدامات کی تعریف کی۔ٹیکسٹائل سیکٹر پر اقدامات کو بھی مثبت قرار دیا۔
  تنقیدی نکات:
مہنگائی اور بے روزگاری میں کمی کا کوئی واضح پلان نہیں۔خوشحالی اور ترقی کی رفتار میں بہتری کی ضمانت نہیں ملتی۔ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ ڈالنا غیر مناسب عمل ہے۔بڑے کاروبار کے لیے کوئی خاص مراعات نہیں رکھی گئیں۔
  سینئر قیادت کی رائے:
میاں انجم نثار (پیٹرن انچیف پیاف، سابق صدر فیڈریشن) اور
خالد عثمان (سینئر نائب صدر، لاہور چیمبر) نے کہا:
"بجٹ میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کوئی جامع حکمتِ عملی سامنے نہیں آئی۔ ٹیکس نظام میں بہتری کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔"
  تاجر برادری کے مطالبات:
اسمگلنگ کی مکمل روک تھام۔خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری۔قومی مفاد کے منصوبوں کی شفاف وضاحت۔
  نتیجہ:
لاہور چیمبر کا کہنا ہے کہ بجٹ میں کچھ مثبت اقدامات ضرور شامل ہیں، مگر اس میں پائیدار اقتصادی ترقی اور کاروباری اعتماد کی بحالی کے لیے درکار اصلاحات کی کمی ہے۔ چیمبر نے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ کی حتمی منظوری سے قبل صنعتی و تجارتی شعبے کی سفارشات کو سنجیدگی سے شامل کیا جائے۔