اچھرہ :طالبہ کی پراسرار ہلاکت معمہ

لاہور پولیس افسران نے  سر جوڑ لئے،گلے پر رسی کے پھندے کا  نشان،متوفیہ ماضی میں بھی خودکشی کی کوشش کر چکی تھی
 لاہور(کرائم رپورٹر) اچھرہ میں واقع ایک نجی ٹیوشن سینٹر کے اندر چھٹی جماعت کی طالبہ کی پراسرار ہلاکت کے معاملے میں پولیس نے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد طالبہ کی لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق طالبہ کی موت گلے میں پھندا لگنے سے واقع ہوئی، جبکہ گلے پر رسی کے پھندے کا واضح نشان موجود ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طالبہ کے جسم پر تشدد یا زبردستی کے کوئی واضح نشانات نہیں ملے۔پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے فنگر پرنٹس، ڈی این اے اور دیگر شواہد اکٹھے کرکے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جبکہ جائے وقوعہ اور اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی تحویل میں لے کر ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق پولیس خودکشی، قتل اور دیگر تمام ممکنہ پہلوؤں پر بیک وقت تحقیقات کر رہی ہے۔ حتمی رائے فرانزک، ڈی این اے، کیمیکل ایگزامینر اور دیگر سائنسی رپورٹس موصول ہونے کے بعد دی جائے گی۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق متوفیہ ماضی میں بھی ایک بار خودکشی کی کوشش کر چکی تھی۔ طالبہ اپنی دو بہنوں کے ساتھ محلے میں قائم ٹیوشن سینٹر پڑھنے جاتی تھی۔ذرائع کے مطابق پولیس نے ٹیوشن سینٹر سے متعلق مزید تفتیش کے لیے مالک مکان کو بھی تحویل میں لے لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا غیرجانبدارانہ اور سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق سامنے لائے جائیں گے۔