بھارت نے ستلج میں پانی چھوڑ دیا،چترال میں گلیشئر پگھلنے سے سیلابی صورتحال لاہور میں 8گھنٹے بادل برسے ،4افرادچل بسے
نشترٹا ئون میں 182ملی میٹر بارش ریکارڈ ،کئی شہروں میں نشیبی علاقے تالاب بن گئے،شیخوپورمیں 2بچے دم توڑگئے سیلاب لرٹ جاری ،
لاہور،اسلام آباد(کرائم رپورٹر ،خصوصی رپورٹ)ملک کے مختلف شہروں میں مون سون کے طوفانی سپیل کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث نظام زندگی شدید متاثر ہو کر رہ گیا، لاہور میں گزشتہ روز 8گھنٹے مسلسل بادل برستے رہے اورجل تھل ایک ہوگیا،شہرمیں مجموعی طور پر 144ملی میٹر بارش جبکہ نشترٹا ئون میں 182ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ،لیسکوکے درجنوں فیڈر ٹرپ کرگئے ، پنجاب بھر میں 24 گھنٹے میں بارش کے دوران حادثات میں 6 افرد جاں بحق ہوگئے۔بھارت نے ایک بار پھر آبی دہشت گردی کرتے ہوئے بغیر اطلاع دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا جبکہ چترال میں گلیشئر پگھلنے سے سیلابی صورتحال پیداہوگئی۔تفصیلات کے مطابق لاہورمیں گزشتہ صبح 5بجکر 20منٹ پر شروع ہونیوالی بارش دوپہر1بجے تک وقفے وقفے سے جاری رہی۔نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔گلبرگ میں 153، جیل روڈ پر 124، تاجپورہ میں 140 ،پانی والا تالاب میں 175 ،فرخ آباد میں 155،گلشن راوی میں 128 اور اقبال ٹا ئون میں 181ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔بارش برسنے سے موسم خوشگوار ہوگیا تاہم گڑھی شاہو، مال روڈ، ساندہ، چوبرجی، سمن آباد، اچھرہ، ماڈل ٹا ئون، ٹا ئون شپ، نشتر ٹا ئون اور کاہنہ سمیت کئی علاقوں میں موسلادھار بارش سے سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں اورمتعدد نشیبی علاقے گھنٹوں پانی میں ڈوبے رہے ،کئی ایک مقامات پر پانی گھروں میں داخل ہوگیا،جس سے فرنیچر اور گھریلو سامان خراب ہوا،سڑکوں پر پانی کے باعث گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند ہوتی رہیں اورٹریفک کی روانی متاثررہی ۔ متعلقہ ادارے الرٹ رہے اور فوری پانی کی نکاسی کو ممکن بنایاگیا۔ لیسکو کے 260 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے، فیڈرز ٹرپ ہونے اور دیگر تکنیکی خرابیوں کے باعث متعدد علاقے بجلی سے محروم ہوگئے جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی بادل خوب برسے، قصور، پتوکی، گجرات، فیصل آباد، ننکانہ صاحب، گوجرہ، سیالکوٹ، ڈسکہ، شکر گڑھ، نارووال، سرگودھا اور حافظ آباد میں بھی شدید بارش ہوئی، جس سے پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔محکمہ موسمیات کی طرف سے بارشوں کا سلسلہ 13 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ لاہور میں گزشتہ روز بارش کے دوران حادثات میں 4افراد جاں بحق ہوئے۔ ظفر علی روڈ سے مال روڈ کی طرف جاتے ہوئے درخت 42سالہ راہ گیر حارث کے اوپر آگر اجس سے وہ موقع پردم توڑ گیا۔ اندرون ٹیکسالی میں ایک گھر کی چھت گر گئی، جس سے ایک شخص جاں بحق جبکہ 3 افراد زخمی ہوئے، نشتر کالونی میں بھی گھر کی چھت گرنے سے ایک فرد جاں بحق اور6زخمی ہوئے، ریسکیو ٹیم نے ملبے سے 3 افراد کو زندہ نکال لیا۔ کشمیری گیٹ میں بجلی کے کھمبے سے کرنٹ لگنے سے ایک بچہ جاں بحق ہوا۔ آشیانہ روڈ پر ٹی آر گارڈر کی چھت گرنے سے ایک شخص زخمی ہوا۔ ہربنس پورہ میں بارش کے باعث بائیک سلپ ہونے کی وجہ سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔نیو راوی پل میں بارش کے باعث گر کر ایک شخص زخمی ہوا۔علی رضا آباد اور وحدت کالونی میں بائیک سلپ ہونے کی وجہ سے ایک، ایک شخص زخمی ہوگیا۔ضلع شیخوپورہ کے گا ئوں مرزا ورکاں میں چھت گرنے سے 2 بچے 5سالہ حرم اور 2سالہ ارحم جاں بحق ا ور دوافراد زخمی ہوگئے۔وہاڑی کے نواح ڈبلیو بی 23، ڈبلیو بی 19 اور ڈبلیو بی 57 میں چھتیں اور دیواریں گرنے سے 4 افراد زخمی ہوئے، چک ڈبلیو بی 59 میں سولر پلیٹیں گرنے سے ایک شخص زخمی ہوا، سٹی منکیرہ میں دیوار گرنے سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔ ڈیرہ غازی خان میں چھت گرنے سے تین افراد زخمی ہوئے۔اوکاڑہ اور گوجرانوالہ میں بھی حادثات سے کئی افراد زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔چترال میں گلیشئر پگھلنے سے ندی نالے بپھر گئیاور ریلوں نے کئی علاقوں میں تباہی مچارکھی ہے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے،مظفر آباد میں رابطہ سڑک کا بڑا حصہ ریلے میں بہہ گیا،کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی بادل برس پڑے اورکئی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔این ڈی ایم اے نے اگلے 12 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں بارش، آندھی، طوفان اور شمالی علاقہ جات میں گلیشئیر کے پھٹنے سے سیلاب کا الرٹ جاری کردیا ہنزہ، شگر، گانچھے اور چترال کے دریا ئوں کے قریب رہائشی محتاط رہیں۔ بھارت نے بغیر اطلاع دئیے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا جس سے کوٹھی فتح محمد ، دایا سنگھ چھبر اور شہباز کے پتن سمیت دیگرعلاقوں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہونے لگا۔دریائے ستلج میں پانی کی سطح 10سے 12 فٹ تک پہنچ گئی، دریا میں کھڑی فصلوں اور آبادیوں کو نقصان کا خدشہ بڑھ گیا ، مون سون کی بارشوں سے بھی پانی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، کئی مقامات پر حفاظتی بند ٹوٹنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا جبکہ انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی انتظامات نہیں کئے جا رہے۔ضلعی انتظامیہ کا کہناہے کہ ابھی سیلاب کی صورتحال نہیں تاہم ہمارے تمام تر انتظامات مکمل ہیں۔ دوسری طرف تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد تین لاکھ26ہزار کیوسک ہوگئی، تربیلا ڈیم سے پانی کے اخراج میں مزید اضافہ کرکے تین لاکھ کیوسک کر دیا گیا ، تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1523.6فٹ تک بلند ہو گئی ہے۔تربیلا بجلی گھر کے تمام 17 پیداواری یونٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں اور پیداوار ہدف چار ہزار چار سو 88 میگاواٹ سے تجاوز کر کے چار ہزار نو سو دو میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔ دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے سے پی ڈی ایم اے کی جانب سیسیلاب کا الرٹ جاری کیاگیاہے اوردریا کنارے آباد دیہاتوں اور بستیوں کے مکینوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔