ڈونلڈ ٹرمپ مجرمانہ ریکارڈ کے ساتھ عہدہ سنبھالنے والے پہلے امریکی صدر ہونگے
نومنتخب صدر نے 2016 میں اداکارہ کو 1 لاکھ 30 ہزار ڈالر کی ادا ئیگی چھپائی تھی
واشنگٹن،نیویارک(خصوصی رپورٹ)نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہَش منی کیس میں سزا سے بچ گئے تاہم ان کا جرم برقرار ہے۔نیویارک کی فوجداری عدالت میں ٹرمپ کو سزا سنانے کیلئے جمعہ کو سماعت ہوئی۔ جج جو آن مرچن نے کہا کہ ٹرمپ کو قید نہیں کیا جائے گا اور نہ ان پر کوئی جرمانہ ہوگا۔عدالت نے ٹرمپ کی رہائی کا فیصلہ دیتے ہوئے رقم دیکر چھپانے کا جرم ٹرمپ کے ریکارڈ میں شامل کرنے کا حکم بھی دیا۔عدالت نے کہا سزا نہ دینے سے جرم کی سنگینی کم ہوتی ہے نہ جواز بنتا ہے۔مرچن نے کہا کہ اس عدالت میں اس سے پہلے کبھی بھی ایسے منفرد حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔واحد قانونی سزا جو اعلیٰ ترین عہدے پر تجاوز کئے بغیر دی جا سکتی ہے وہ غیر مشروط ڈسچارج ہے۔عدالت کے فیصلے کے بعد ٹرمپ امریکی تاریخ کے پہلے صدر ہوں گے جو مجرمانہ ریکارڈ کے ساتھ صدارت کا عہدہ سنبھالیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ جج، وکلا اور میڈیا کے ساتھ مین ہٹن کورٹ روم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔خیال رہے کہ گزشتہ سال مئی میں امریکی عدالت نے پورن سٹار کو رقم کی ادائیگی سے متعلق کیس میں ٹرمپ پر عائد الزامات درست قرار دیتے ہوئے انہیں مجرم قرار دیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ پر فحش فلموں کی اداکارہ اسٹارمی ڈینئلز کو 1 لاکھ 30 ہزار ڈالر کی ادائیگی سے متعلق 34 الزامات عائد کیے گئے تھے، جیوری نے تمام 34 الزامات کو درست قرار دیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام تھا کہ ان کے اسٹارمی ڈینئلز کے ساتھ جنسی تعلقات تھے اور انہیں چھپانے کے لیے 2016 کے صدارتی انتخابات کے موقع پر اسٹارمی ڈینئلز کو رقم دی گئی تھی، جس کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن جیت گئے تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا سنائے جانے کے لیے کیس کی مزید سماعت ابتدائی طور پر 11 جولائی 2024 کو ہونی تھی جو متعدد مرتبہ ملتوی ہوئی۔دوسری جانب نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیصلے کے بعد ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا یہ کوئی کیس ہی نہیں تھا،جھوٹ اور مجرمانہ انتخابی مداخلت تھی ، فیصلے کیخلاف اپیل کروں گا۔انہوں نے کہا اصل جیوری امریکی عوام نے تاریخ کے سب سے زیادہ نتیجہ خیز انتخابات میں ایک زبردست مینڈیٹ کے ساتھ مجھے دوبارہ منتخب کیا۔ اس کیس میں کوئی جرم نہیں تھا، کوئی نقصان نہیں تھا، کوئی ثبوت نہیں تھا، کوئی حقائق نہیں تھے، کوئی قانون نہیں تھا، صرف ایک انتہائی متضاد جج تھا، ایک ستارہ گواہ تھا جو ایک رسوا، سیریل جھوٹا تھا اوریہ کیس مجرمانہ انتخابی مداخلت ہے۔ ٹرمپ نے کہا فیصلہ ایک حقیر سی بات تھی، اب جبکہ یہ ختم ہو چکا ہے، ہم اس دھوکہ دہی کے خلاف اپیل کریں گے اورعظیم نظام انصاف پر امریکیوں کا اعتماد بحال کریں گے۔ادھر جمعہ کو امریکی سپریم کورٹ نے نومنتخب صدر ٹرمپ کی طرف سے ہش منی کیس میں سزا کو روکنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ چار قدامت پسند ججز کلیرنس تھامس، سیموئیل ایلیٹو، نیل گورسچ اور بریٹ کاونا ئو ٹرمپ کی درخواست منظور کرنے کے حق میں تھے۔ خیال رہے نومنتخب امریکی صدر 20 جنوری کو امریکا کے 47 ویں صدر کی حیثیت سے منصب سنبھالیں گے۔